طالبان قیادت میں پاکستان مخالف حملوں پر پھوٹ، قندھاری اور حقانی گروپ آمنے سامنے

افغان طالبان کی قیادت میں پاکستان کے حوالے سے شدید اختلافات سامنے آئے ہیں، جہاں حقانی گروپ حملوں کے خلاف جبکہ قندھاری گروپ ان کی حمایت کر رہا ہے۔
معروف صحافی حماد حسن کے مطابق افغان طالبان کی اعلیٰ قیادت کے درمیان پاکستان کے حوالے سے پالیسی پر خلیج واضح ہو گئی ہے، جس کے اثرات قندھار میں اہم گرفتاریوں کی صورت میں بھی سامنے آئے ہیں۔ سراج الدین حقانی اور ہیبت اللہ اخوندزادہ کے درمیان اختلافات کی بنیادی وجہ پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی ہے۔
حقانی گروپ کا مؤقف ہے کہ پاکستان پر حملے بند ہونے چاہئیں کیونکہ اس سے دوطرفہ تعلقات اور علاقائی امن متاثر ہو رہا ہے، جبکہ دوسری جانب قندھار میں بیٹھی قیادت ان حملوں کی سرپرستی سے باز نہیں آ رہی۔ حال ہی میں باجوڑ میں ہونے والا حملہ بھی مبینہ طور پر قندھار کی ہدایت پر کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں : طالبان رجیم پر عوامی عدم اعتماد، افغانستان میں شفاف انتخابات کا مطالبہ
پاکستان نے اس تمام صورتحال پر اپنا انتہائی سخت اور واضح مؤقف افغان حکام تک پہنچا دیا ہے۔ پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ ہمیں اس سے کوئی غرض نہیں کہ حملے کون کر رہا ہے اور نہ ہی ہمیں افغانستان کے داخلی اختلافات میں کوئی دلچسپی ہے۔
پاکستان نے دو ٹوک الفاظ میں انتباہ جاری کیا ہے کہ ہماری سرزمین پر ہونے والے کسی بھی حملے کا جواب بھرپور طریقے سے دیا جائے گا اور جوابی کارروائی کا دائرہ کار صرف سرحدی علاقوں تک محدود نہیں رہے گا بلکہ پورے افغانستان میں جہاں بھی ضرورت محسوس ہوئی، وہاں کارروائی کی جائے گی۔
حماد حسن کے مطابق پاکستان نے واضح کر دیا ہے کہ آپ کے اپنے کام آپ جانیں، لیکن اگر ہمارے ملک کی سلامتی کو خطرہ ہوا تو جواب آپ کے ملک کے اندر ہی دیا جائے گا۔
Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.








