منگل، 21-اپریل،2026
منگل 1447/11/04هـ (21-04-2026م)

طالبان رجیم پر عوامی عدم اعتماد، افغانستان میں شفاف انتخابات کا مطالبہ

21 اپریل, 2026 10:50

سابق وزیراعظم افغانستان نے گلبدین حکمت یار سمیت کئی سیاسی جماعتوں نے موجودہ نظام کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے فوری اصلاحات اور شفاف انتخابات کا مطالبہ کر دیا ہے۔

افغانستان کے موجودہ حالات میں طالبان حکومت (رجیم) پر افغان عوام اور سیاسی قیادت کا عدم اعتماد کھل کر سامنے آنے لگا ہے اور ملک میں نظام کی تبدیلی کے مطالبات زور پکڑتے جا رہے ہیں۔

طالبان انتظامیہ کی جابرانہ پالیسیوں اور غیر قانونی اقدامات کے باعث عوامی مزاحمت میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔

حزب اسلامی کے سربراہ اور سابق وزیراعظم گلبدین حکمت یار نے موجودہ نظام کو افغانستان کے لیے ناقابل قبول قرار دے دیا ہے۔

انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں سیاسی تبدیلی اور شفاف انتخابات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ دور میں افغانستان کے حالات ہرگز عوامی امنگوں کے مطابق نہیں ہیں اور ملک کو بحران سے نکالنے کے لیے فوری اصلاحات ناگزیر ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : افغان طالبان کا القاعدہ سے تعلق برقرار، حکومت کے پچپن ارکان براہ راست ملوث نکلے

افغان میڈیا کے مطابق گلبدین حکمت یار نے طالبان حکومت میں آئین کی عدم موجودگی اور شوریٰ جیسے بنیادی اسلامی و جمہوری عناصر کے فقدان پر شدید تنقید کی ہے۔

دوسری جانب سیاسی جماعت حزب وحدت اسلامی افغانستان نے بھی خبردار کیا ہے کہ بیرون ملک مقیم سیاسی قائدین اس وقت تک واپس نہیں آئیں گے، جب تک عوامی مینڈیٹ کے حامل نظام کی واپسی یقینی نہیں بنائی جاتی۔ اگر سیاسی استحکام نہ آیا تو مستقبل کے تمام بحرانوں کی ذمہ دار طالبان انتظامیہ ہوگی۔

افغان میڈیا کی رپورٹس میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ گزشتہ چار سالوں کے دوران سابق حکومت کے درجنوں ارکان اور سیکورٹی اہلکاروں کو انتقام کا نشانہ بناتے ہوئے قتل یا قید کیا گیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ طالبان کے آمرانہ رویے اور کڑی پالیسیوں نے افغان معیشت اور معاشرے کو مکمل طور پر تباہ کر دیا ہے، جس کی وجہ سے اب عوام نظام کی تبدیلی کے لیے میدان میں آ رہے ہیں۔

Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔