حکومت کا ملک میں نئے صوبے اور وفاقی علاقے بنانے کا فیصلہ

حکومت ملک میں انتظامی ڈھانچے کی بہتری کے لیے ایک جامع قانونی پیکج پر کام کر رہی ہے، جس کے تحت موجودہ صوبائی سرحدوں کو تبدیل کر کے نئے صوبے اور وفاقی علاقے بنائے جائیں گے۔
اسلام آباد کے سیاسی حلقوں میں زیر گردش خبر کے مطابق حکومت ملک کے موجودہ جغرافیائی اور انتظامی نقشے کو یکسر تبدیل کرنے کے لیے ایک بہت بڑے قانونی پیکج پر خاموشی سے کام کر رہی ہے۔
دعوؤں کے مطابق اس مجوزہ آئینی اور قانونی پیکج کا بنیادی مقصد موجودہ صوبائی سرحدوں کی ازسرنو حدبندی کرنا اور ملک میں متعدد نئے صوبوں اور وفاقی علاقوں کا قیام عمل میں لانا ہے تاکہ انتظامی امور کو نچلی سطح تک منتقل کیا جا سکے۔
اس منصوبے کے تحت وفاق کے زیر انتظام پانچ بڑے مخصوص علاقے یا فیڈرل ٹیرٹوریز بنانے کی تجویز دی گئی ہے، جن میں وفاقی دارالحکومت اسلام آباد، گلگت بلتستان، آزاد کشمیر کے ساتھ ساتھ معاشی حب کراچی اور تزویراتی بندرگاہ والے شہر گوادر کو براہ راست وفاق کے کنٹرول میں دینے کی سفارش کی گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس منصوبے میں ملک کے سب سے بڑے صوبے پنجاب کو چار الگ الگ صوبوں میں تقسیم کرنے کی تجویز شامل ہے، جن کے نام مغربی پنجاب، جنوبی پنجاب، بہاولپور اور پوٹھوہار رکھے جائیں گے۔
یہ بھی پڑھیں : پاکستان سمیت 10 ممالک کی غزہ گلوبل صمود فلوٹیلا پر اسرائیلی حملوں کی مذمت
اسی طرح صوبہ سندھ کو بھی انتظامی بنیادوں پر تین حصوں میں تقسیم کرنے کا نقشہ تیار کیا گیا ہے، جس کے تحت شہری سندھ، دیہی سندھ اور مہران کے نام سے نئے صوبے وجود میں آئیں گے۔
رقبے کے لحاظ سے ملک کے سب سے بڑے صوبے بلوچستان کو بھی دو حصوں یعنی صوبہ بلوچستان اور صوبہ مکران میں تقسیم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
دوسری جانب صوبہ خیبر پختونخوا کو بھی چار انتظامی صوبوں میں بانٹنے کا منصوبہ ہے، جن میں خیبر، جنوبی خیبر پختونخوا، ہزارہ اور کوہستان شامل ہیں۔
اس قسم کے بڑے جیو پولیٹیکل اور آئینی پیکج کو نافذ کرنے کے لیے پارلیمنٹ میں دو تہائی اکثریت اور تمام سیاسی جماعتوں کے درمیان ایک بڑے قومی اتفاق رائے کی ضرورت ہوگی، ورنہ یہ معاملہ ملک میں ایک نئی سیاسی بحث اور صوبائی تعصبات کو جنم دے سکتا ہے۔
Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.











