جمعرات، 25-جون،2026
جمعرات 1448/01/10هـ (25-06-2026م)

ایف آئی اے کی بڑی کامیابی، 6 ارب روپے کے ٹیکس و پیٹرولیم لیوی فراڈ کا سراغ

25 جون, 2026 16:17

اسلام آباد: ایف آئی اے نے پٹرولیم سیکٹر میں اربوں روپے کی مبینہ مالی بے ضابطگیوں، ٹیکس چوری اور پیٹرولیم لیوی فراڈ کے ایک بڑے اسکینڈل کا سراغ لگا کر قومی خزانے کے تحفظ کی جانب اہم پیش رفت کی ہے۔ کئی ماہ تک جاری رہنے والی تکنیکی، فرانزک اور دستاویزی تحقیقات کے بعد ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل کراچی نے گو آئل پاکستان لمیٹڈ (گو پیٹرولیم)، ٹرمینل ون لمیٹڈ اور ان کے بعض ذمہ داران کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔
ایف آئی اے کی فرسٹ انفارمیشن رپورٹ کے مطابق تحقیقات کا آغاز مارچ 2026 میں اس وقت کیا گیا جب مختلف سرکاری اداروں کو پٹرولیم مصنوعات کے ذخائر، فروخت اور ریگولیٹری اداروں کو فراہم کیے جانے والے ڈیٹا میں مبینہ تضادات کی اطلاعات موصول ہوئیں۔ بعد ازاں فرانزک آڈٹ، اسٹاک ویری فکیشن، کسٹمز ریکارڈ اور سپلائی چین کے تفصیلی جائزے کے دوران ایسے شواہد سامنے آئے جن کی بنیاد پر مقدمہ درج کیا گیا۔
فراڈ کا طریقہ کار کیا تھا؟
تحقیقاتی دستاویزات کے مطابق درآمد شدہ پٹرولیم مصنوعات، جن میں ہائی آکٹین بلیندنگ کمپوننٹ (HOBC RON-95) اور پٹرول (PMG) شامل تھے، کسٹمز بانڈڈ ٹرمینلز میں ذخیرہ کیے گئے۔ قانون کے مطابق ایسی مصنوعات کو مارکیٹ میں فروخت یا استعمال کرنے سے قبل ایکس بانڈ گڈز ڈیکلریشن (Ex-Bond GD) جمع کروانا اور تمام قابل اطلاق کسٹمز ڈیوٹی، سیلز ٹیکس، پیٹرولیم لیوی اور کلائمیٹ سپورٹ لیوی ادا کرنا لازمی ہوتا ہے۔
ایف آئی اے کے مطابق ابتدائی شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ بڑی مقدار میں پٹرولیم مصنوعات مبینہ طور پر ان قانونی تقاضوں کو پورا کیے بغیر بانڈڈ ٹرمینلز سے نکال کر سپلائی چین میں شامل کی گئیں۔ اس عمل کے ذریعے قومی خزانے کو تقریباً 6 ارب روپے کے محصولات سے محروم کیا گیا۔
4 کروڑ 86 لاکھ لیٹر پٹرول کا معاملہ
تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ تقریباً 4 کروڑ 86 لاکھ لیٹر پٹرول جس کے بارے میں سرکاری ریکارڈ، فزیکل اسٹاک اور سپلائی دستاویزات میں نمایاں فرق پایا گیا۔ ایف آئی اے کا مؤقف ہے کہ یہ مقدار کسٹمز ڈیوٹی، پیٹرولیم لیوی اور دیگر ٹیکسز کی ادائیگی کے بغیر مارکیٹ میں فروخت کی گئی۔
دستاویزات کے مطابق پورٹ قاسم پر قائم ٹرمینل ون لمیٹڈ کے بانڈڈ ٹرمینل سے درآمدی پٹرولیم مصنوعات نکالنے اور بعد ازاں محمود کوٹ اور فیصل آباد تک سپلائی کے دوران متعدد بے ضابطگیوں کی نشاندہی ہوئی ہے۔ تحقیقات میں پائپ لائن نیٹ ورک کے استعمال، اسٹاک ریکارڈ اور مصنوعات کی نقل و حرکت کا خصوصی جائزہ لیا گیا۔
کن افراد کے خلاف مقدمہ درج ہوا؟
ایف آئی اے نے ابتدائی شواہد کی بنیاد پر گو پیٹرولیم اور ٹرمینل ون کے متعدد ذمہ داران کو مقدمے میں نامزد کیا ہے۔ نامزد افراد میں گو پیٹرولیم کے چیف ایگزیکٹو خالد ریاض، ٹرمینل ون کے چیف ایگزیکٹو فیاض احمد، ٹرمینل مینیجر فرید احمد صدیقی اور دیگر متعلقہ افسران شامل ہیں۔
مقدمہ کسٹمز ایکٹ 1969، انسداد بدعنوانی ایکٹ 1947 اور پاکستان پینل کوڈ کی مختلف دفعات کے تحت درج کیا گیا ہے جبکہ مزید شواہد کی روشنی میں مقدمے میں نئے نام شامل کیے جانے کا امکان بھی موجود ہے۔
اوگرا اور دیگر اداروں کا کردار
تحقیقات کے دوران ایف آئی اے نے آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی سے بھی متعدد ریکارڈ طلب کیے۔ ذرائع کے مطابق ایف آئی اے نے گو پیٹرولیم کی جانب سے جمع کروائے گئے پرائس ڈیفرنشل کلیمز، روزانہ کی بنیاد پر فروخت اور اسٹاک پوزیشن رپورٹس، نجی اسٹوریج ٹرمینلز کے ساتھ معاہدوں اور مختلف ٹرمینلز کے معائنہ ریکارڈ کی تفصیلات حاصل کیں۔
معاملے کی سنگینی کے پیش نظر اوگرا نے گو پیٹرولیم کے تقریباً 14 ارب روپے کے پرائس ڈیفرنشل کلیمز روک لیے جبکہ ایف آئی اے کی انکوائری کے باعث مختلف آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو مجموعی طور پر تقریباً 70 ارب روپے کی ادائیگیاں بھی عارضی طور پر معطل رہیں۔
کسٹمز اور تھرڈ پارٹی ٹرمینلز بھی زیرِ تفتیش
ایف آئی اے حکام کے مطابق تحقیقات کا محور صرف ایک کمپنی نہیں بلکہ پورا سپلائی اور نگرانی کا نظام ہے۔ اسی لیے کسٹمز بانڈڈ ویئر ہاؤسز، نجی اسٹوریج ٹرمینلز، تھرڈ پارٹی آپریٹرز اور متعلقہ سرکاری اہلکاروں کے ممکنہ کردار کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔
تحقیقاتی ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر بانڈڈ ٹرمینلز سے اتنی بڑی مقدار میں مصنوعات نکالی گئیں تو یہ جاننا ضروری ہے کہ نگرانی کے نظام میں خامی کہاں تھی اور متعلقہ کنٹرول میکانزم کیوں مؤثر ثابت نہ ہو سکے۔
ایف آئی اے کی کارروائی کو اہم پیش رفت قرار
توانائی اور مالیاتی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ایف آئی اے کی جانب سے فرانزک تحقیقات، ریکارڈ کی جانچ اور قانونی کارروائی کا آغاز اس بات کا ثبوت ہے کہ ریاستی ادارے قومی محصولات کے تحفظ اور پٹرولیم سیکٹر میں شفافیت یقینی بنانے کے لیے متحرک ہیں۔ ماہرین کے مطابق اگر تحقیقات منطقی انجام تک پہنچتی ہیں تو یہ پاکستان کے پٹرولیم شعبے میں احتساب اور گورننس کے نظام کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم قدم ثابت ہو سکتا ہے۔
ایف آئی اے حکام کا کہنا ہے کہ تحقیقات جاری ہیں اور مقدمے میں نامزد افراد کے علاوہ دیگر ممکنہ کرداروں کا تعین بھی کیا جا رہا ہے۔ مزید شواہد سامنے آنے پر قانونی کارروائی کا دائرہ مزید وسیع کیے جانے کا امکان ہے۔

گو پیٹرولیم نے ایف آئی اے کےتمام الزامات کو مسترد کردیا۔سی ای او خالد ریاض کے مطابق بانڈڈ وئیر ہاوسز سے نکالی گئی پیٹرولیم مصنوعات کی انشورنس گارنٹی موجود ہے ۔ ایف آئی اے نے انہیں نوٹس دیئے بغیر کاروائی کی

Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔