سندھ طاس معاہدہ : بھارت سے مسائل حل نہ ہوئے تو عالمی ثالثی عدالت جائیں گے، کمشنر انڈس واٹر ٹریٹی

کمشنر انڈس واٹر ٹریٹی کا کہنا ہے کہ سندھ طاس معاہدہ ہماری زراعت اور معیشت کی شہہ رگ ہے، بھارت اسے یکطرفہ طور پر معطل نہیں کر سکتا اور کسی بھی تنازع کی صورت میں پاکستان عالمی ثالثی عدالت جانے کا پورا حق رکھتا ہے۔
پاکستان کے کمشنر انڈس واٹر ٹریٹی مہر علی شاہ نے سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے اہم تفصیلات بتاتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان اب تک دو بار بھارت کی طرف سے متنازع بجلی گھر بنانے کا معاملہ عالمی ثالثی عدالت لے جا چکا ہے اور عدالت دونوں مرتبہ اس معاہدے کی مکمل وضاحت کر چکی ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ عالمی عدالت یہ بات بلکل صاف کر چکی ہے کہ بھارت اس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل یا ختم نہیں کر سکتا۔
کمشنر انڈس واٹر ٹریٹی کا کہنا تھا کہ سندھ طاس معاہدہ ہماری زراعت، خوراک اور معیشت سے جڑا ہوا ہے اور یہ دو ایٹمی قوتوں کے درمیان امن کی ایک بڑی علامت ہے کیونکہ یہ عالمی سطح پر تسلیم شدہ ایک بہترین معاہدہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں : پانی پاکستان کی بقا اور ریڈ لائن ہے، سندھ طاس معاہدہ یکطرفہ طور پر معطل نہیں ہو سکتا، وفاقی وزرا
انہوں نے بتایا کہ سندھ طاس معاہدے میں مجموعی طور پر 12 شقیں موجود ہیں اور گزشتہ روز بھی ڈیٹا کی فراہمی کے لیے بھارت کو خط لکھا جا چکا ہے۔
مہر علی شاہ نے کہا کہ چونکہ پاکستان دریاؤں کے نشیبی طرف واقع ہے، اس لیے ڈیٹا کی بروقت فراہمی ہمارے لیے انتہائی ضروری ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر مسائل آپس میں حل نہ ہوئے تو یہ معاملہ تیسرے فریق کے پاس جائے گا، کیونکہ معاہدے کی شق 9 کے تحت عالمی ثالثی عدالت سے رجوع کیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ سندھ طاس معاہدے پر کسی بھی طرح کی سیاسی گفتگو کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔
Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.










