سانحہ کاہنہ، گھر کا خرچہ چلانے کے لیے دو سال سے بچوں کو ٹیوشن پڑھا رہی ہوں، خاتون ٹیچر

سانحہ کاہنہ کے مرکزی ملزم ریحان اور ٹیوشن پڑھانے والی خاتون ٹیچر کے بیانات سامنے آ گئے ہیں، جن میں انہوں نے حادثے کی وجوہات اور اپنی مالی حالت کا ذکر کیا ہے۔
لاہور کے علاقے کاہنہ میں ٹیوشن سینٹر کی چھت گرنے سے 14 معصوم بچوں کی ہلاکت کے کیس میں پولیس نے مرکزی ملزم ریحان کا بیان ریکارڈ کر لیا ہے۔
ملزم ریحان نے اپنے بیان میں بتایا کہ مون سون کی بارشوں کی وجہ سے ان کے مکان کی چھت ٹپکتی تھی، اسی لیے وہ اپنے دیگر بھائیوں اور مستری کے ساتھ مل کر چھت پر ٹائلیں لگا رہا تھا تاکہ پانی نہ ٹپکے۔
ملزم نے کہا کہ وہ غربت کی وجہ سے نئی چھت نہیں ڈلوا سکتا تھا اور یہ چھت اچانک نیچے گر گئی۔ اس نے مزید بتایا کہ گھر کا خرچہ چلانے کے لیے اس کی بیوی بچوں کو ٹیوشن پڑھاتی تھی اور وہ سب 3 مرلے کے ایک چھوٹے سے گھر میں رہائش پذیر ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : سانحہ کاہنہ، ٹیوشن سینٹر کی چھت گرنے سے 14 بچوں کی ہلاکت کا مقدمہ درج
دوسری جانب خاتون ٹیچر کا ویڈیو بیان بھی سامنے آیا ہے، جس میں انہوں نے کہا کہ ان کے مالی حالات اچھے نہیں ہیں، جس کی وجہ سے وہ گزشتہ 2 سال سے چھوٹے بچوں کو ٹیوشن پڑھا رہی ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ ان کے شوہر منڈی کے پاس پھل کی ریڑھی لگاتے ہیں اور وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کی طرف سے انہیں کوئی ریڑھی نہیں دی گئی تھی۔
خاتون نے بتایا کہ ان کے پاس مجموعی طور پر 30 سے 35 بچے پڑھنے آتے ہیں، تاہم گزشتہ روز 20 سے 22 بچے موجود تھے۔
انہوں نے کہا کہ انہیں بلکل اندازہ نہیں تھا کہ چھت گر جائے گی، یہ سب اللہ کی طرف سے ہوا ہے۔ ان کی اپنی بیٹی بھی اس حادثے میں زخمی ہوئی تھی، جو اب اسپتال سے ڈسچارج ہو چکی ہے۔
Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.










