پنجاب میں سماعت سے محروم افراد کیلئے ڈرائیونگ لائسنس کے قوانین میں بڑی تبدیلی کی تجویز

Major Driving License Update
پنجاب حکومت نے سماعت سے محروم افراد کو بااختیار بنانے اور انہیں مساوی سہولیات فراہم کرنے کی جانب ایک اہم قدم اٹھایا ہے۔
اس مقصد کے لیے ڈرائیونگ لائسنس کے قوانین میں اہم ترامیم تجویز کی گئی ہیں، جن کے تحت مخصوص شرائط پوری کرنے والے سماعت سے محروم افراد بھی قانونی طور پر ڈرائیونگ لائسنس حاصل کر سکیں گے۔ اس اقدام کا مقصد خصوصی افراد کے لیے نقل و حرکت کو آسان بنانا اور انہیں روزمرہ زندگی میں زیادہ خودمختار بنانا ہے۔
پنجاب اسمبلی میں پیش کیے گئے پروونشل موٹر وہیکلز (فورتھ امینڈمنٹ) بل 2025 میں متعدد نئی تجاویز شامل کی گئی ہیں۔ مجوزہ قانون کے مطابق ایسے افراد جن کی سماعت میں 40 ڈیسیبل تک کمی ہو، وہ ہیئرنگ ایڈ استعمال کرتے ہوئے ڈرائیونگ لائسنس حاصل کرنے کے اہل ہوں گے۔ اس کے لیے انہیں دیگر امیدواروں کی طرح مقررہ ٹیسٹ اور قانونی تقاضے پورے کرنا ہوں گے۔
بل میں یہ بھی تجویز دی گئی ہے کہ سماعت سے محروم امیدواروں کا ڈرائیونگ ٹیسٹ ایسے ایگزامینر یا مترجم کی موجودگی میں لیا جائے جو سائن لینگویج سے واقف ہو۔ اس اقدام کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ امیدوار کو ٹیسٹ کے دوران مکمل رہنمائی اور مساوی مواقع فراہم کیے جائیں، تاکہ وہ بغیر کسی رکاوٹ کے اپنی صلاحیت ثابت کر سکے۔
مجوزہ ترامیم کے مطابق اگر کسی امیدوار کی سماعت میں 40 ڈیسیبل سے زیادہ کمی ہو تو اس کے لیے منظور شدہ معاون ٹیکنالوجی کا استعمال لازمی قرار دیا جائے گا۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ جدید معاون آلات کے ذریعے سماعت سے محروم افراد بھی محفوظ انداز میں گاڑی چلا سکتے ہیں، اس لیے انہیں مناسب سہولت فراہم کرنا ضروری ہے۔
بل میں ایک اور اہم تجویز یہ بھی شامل کی گئی ہے کہ سماعت سے محروم افراد کے ڈرائیونگ لائسنس کے اجرا اور تجدید کی فیس مکمل طور پر ختم کر دی جائے۔ اس فیصلے کا مقصد مالی بوجھ کم کرنا اور زیادہ سے زیادہ خصوصی افراد کو اس سہولت سے فائدہ اٹھانے کا موقع دینا ہے۔
مجوزہ قانون کے تحت ایسے ڈرائیورز کی گاڑیوں پر مخصوص شناختی اسٹیکر لگانا لازمی ہوگا تاکہ دیگر ڈرائیور اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ان کی صورتحال سے آگاہ رہیں۔ تاہم حفاظتی وجوہات کی بنا پر سماعت سے محروم افراد کو ایمبولینس، پولیس، فائر بریگیڈ اور دیگر ایمرجنسی گاڑیاں چلانے کے لائسنس جاری نہ کرنے کی سفارش بھی کی گئی ہے۔
اس کے علاوہ بل میں معذوری کی قانونی تعریف کو بھی وسیع کرنے کی تجویز دی گئی ہے تاکہ سماعت سے محروم افراد کو بھی خصوصی افراد کے طور پر قانونی شناخت اور تمام متعلقہ سہولیات حاصل ہو سکیں۔ اس سے انہیں سرکاری خدمات، مراعات اور دیگر حقوق تک بہتر رسائی ملنے کی توقع ہے۔
Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.











