میٹھا کھانے کے شوقین افراد فیصلے کیسے کرتے ہیں؟ نئی تحقیق میں اہم انکشاف

کیا آپ کو میٹھا کھانا بہت پسند ہے؟ آئس کریم، چاکلیٹ، ٹافی اور کیک جیسی میٹھی اشیا کا ذائقہ صرف آپ کی پسند کو ہی ظاہر نہیں کرتا بلکہ یہ آپ کے فیصلہ سازی کے انداز سے بھی منسلک ہوسکتا ہے۔
روس کی ایچ ایس ای یونیورسٹی میں ہونے والی ایک نئی تحقیق میں میٹھے ذائقے کی پسند اور انسان کے فیصلے کرنے کے انداز کے درمیان تعلق کا جائزہ لیا گیا۔
تحقیق میں 149 نوجوان افراد کو شامل کیا گیا اور ان کی میٹھے ذائقے کی ترجیحات کا جائزہ لینے کے بعد مختلف کام کروائے گئے۔ ان سرگرمیوں کے ذریعے محققین نے شرکا کے خطرہ مول لینے اور فوری یا تاخیر سے ملنے والے انعامات کے انتخاب کا جائزہ لیا۔
نتائج سے معلوم ہوا کہ میٹھا کھانے کے زیادہ شوقین افراد بعض حالات میں خطرہ مول لینے کے بجائے نسبتاً محفوظ اور یقینی انتخاب کو ترجیح دیتے ہیں۔ ایسے افراد بڑے مگر تاخیر سے ملنے والے انعام کے مقابلے میں چھوٹے لیکن فوری طور پر حاصل ہونے والے انعام کو زیادہ پسند کرتے ہیں۔
محققین کے مطابق اس رجحان سے ظاہر ہوتا ہے کہ میٹھا پسند کرنے والے افراد ممکنہ طور پر غیر یقینی صورتحال سے گریز کرتے ہیں اور ایسے نتائج کو ترجیح دیتے ہیں جن کا حصول فوری اور زیادہ یقینی ہو۔
تحقیق میں یہ بھی دیکھا گیا کہ ان افراد میں فوری انعام حاصل کرنے کی خواہش زیادہ نمایاں ہوسکتی ہے۔ تاہم محققین کا کہنا ہے کہ اس تعلق کو صرف میٹھے ذائقے کی پسند سے جوڑنا درست نہیں، کیونکہ خطرے سے متعلق رویے بھی فیصلہ سازی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق دماغ کے وہ حصے جو انعام، خطرے اور غیر یقینی صورتحال سے متعلق فیصلوں میں کردار ادا کرتے ہیں، اس طرح کے رویوں سے منسلک ہوسکتے ہیں۔ میٹھے ذائقے کی پسند بھی دماغ کے انعامی نظام سے تعلق رکھتی ہے، جس کی وجہ سے دونوں کے درمیان تعلق کا جائزہ لینا اہم ہے۔
محققین نے واضح کیا کہ تحقیق سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ میٹھا کھانے سے انسان کے فیصلے براہ راست تبدیل ہوجاتے ہیں۔ تحقیق میں صرف میٹھے ذائقے کی پسند اور مخصوص فیصلہ سازی کے رویوں کے درمیان تعلق کا جائزہ لیا گیا ہے۔
تحقیق کے نتائج جرنل فرنٹیئرز ان سائیکولوجی میں شائع ہوئے۔
Catch all the صحت News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.









