مولانا فضل الرحمان کے شہدا سے متعلق گمراہ کن اور توہین آمیز بیان پر ملک بھر سے شدید ردعمل

دفاعی قوت کو دفاعی لحاظ سے مضبوط دیکھنا چاہتے ہیں سیاسی قوت کے طور پر نہیں، فضل الرحمان
جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے شہداء سے متعلق بیان پر ملک بھر سے ردعمل سامنے آ رہا ہے۔ مختلف سیاسی، سماجی اور قانونی حلقوں نے بیان کو نامناسب قرار دیتے ہوئے اس پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد اور تنظیموں کا کہنا ہے کہ ملک کے دفاع اور سلامتی کے لیے جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے شہداء کی قربانیاں قومی اثاثہ ہیں، جنہیں احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔
ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن دادو، ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن گھوٹکی، بار ایسوسی ایشن جوہی، ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن جامشورو اور پاکستان ینگ ہندو فورم سمیت مختلف تنظیموں نے مولانا فضل الرحمان کے بیان پر مذمت کا اظہار کیا ہے۔
ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن دادو کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا کہ ملک کے دفاع میں سیکیورٹی اداروں کی قربانیاں کسی بھی دنیاوی مفاد سے بالاتر ہیں۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ ایسے بیانات شہداء کے اہلِ خانہ اور پوری قوم کے جذبات کو متاثر کرنے کا باعث بنتے ہیں۔
اعلامیے میں پاکستان کی سلامتی، امن اور خودمختاری کے لیے جانیں قربان کرنے والے شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے ان کی قربانیوں کو ناقابلِ فراموش قرار دیا گیا۔
ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن گھوٹکی نے بھی شہداء کی لازوال قربانیوں کو سراہتے ہوئے بیان کی مذمت کی، جبکہ بار ایسوسی ایشن جوہی نے کہا کہ ایسے بیانات سے شہداء کے لواحقین سمیت عوام کے جذبات مجروح ہوتے ہیں۔
ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن جامشورو نے مطالبہ کیا کہ شہداء سے متعلق بیان واپس لیا جائے، جبکہ پاکستان ینگ ہندو فورم نے کہا کہ شہداء کی بہادری اور بے لوث قربانیوں کو ہمیشہ عزت اور فخر کے ساتھ یاد رکھا جائے گا۔
ماہرین کے مطابق قومی شہداء کی قربانیوں کو سیاسی اختلافات یا مفادات کی نظر سے دیکھنا ایک حساس معاملہ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ شہداء ملک کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے دی جانے والی قربانیوں کی علامت ہیں اور ان کا احترام قومی ذمہ داری ہے۔
Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.








