جمعہ، 28-اگست،2026
جمعہ 1448/03/15هـ (28-08-2026م)

لاہور ہائیکورٹ نے جعلی کرنسی برآمد کرنے کے بعد گواہ کو شامل کرنا لازمی قرار دے دیا

28 اگست, 2026 10:46

لاہور ہائیکورٹ نے فیصلے میں کہا ہے کہ جعلی کرنسی برآمد کرنا کافی نہیں، الزامات کی تائید کیلئے گواہ کا ہونا لازم ہے۔

لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس امجد پرویز نے جعلی کرنسی کے ایک اہم مقدمے میں ملزم کی بعد از گرفتاری ضمانت منظور کرتے ہوئے 4 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کر دیا ہے۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح کیا ہے کہ ملزم کا پولیس یا تفتیش کے دوران جعلی کرنسی کے مقدمے میں کیا گیا اعترافِ جرم قانون کے مطابق ناقابلِ قبول ہے اور صرف اس بنیاد پر کسی کو سزا نہیں دی جا سکتی۔

جسٹس امجد پرویز نے اپنے تحریری فیصلے میں لکھا ہے کہ ضمانت کو کبھی بھی سزا کے طور پر نہیں روکا جا سکتا اور جب تک عدالت سے جرم ثابت نہ ہو جائے، تب تک ملزم کو قانون کی نظر میں بے گناہ ہی تصور کیا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : پروپیگنڈے کے دور میں حقائق پر مبنی تجزیہ ضروری ہے، فیلڈ مارشل کی ہارورڈ کے طلبہ سے گفتگو

عدالت نے ملزم کو ایک لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکوں اور ایک ضامن کے عوض فوری طور پر بعد از گرفتاری ضمانت پر رہا کرنے کا حکم جاری کیا ہے۔

تحریری فیصلے میں نشاندہی کی گئی ہے کہ ملزم کے خلاف جعلی کرنسی بنانے یا اسے مارکیٹ میں فروخت کرنے کا کوئی بھی ٹھوس اور قابلِ اعتماد ثبوت ریکارڈ پر موجود نہیں ہے۔

عدالت نے مزید کہا کہ ملزم کی گرفتاری اگرچہ ایک مصروف ترین عوامی مقام سے ہوئی، لیکن اس کے باوجود پولیس کی جانب سے کارروائی کے دوران کسی بھی عام شہری یا گواہ کو شامل نہیں کیا گیا جو تفتیش پر سوالیہ نشان ہے۔

عدالت عالیہ نے یہ بھی واضح کیا کہ ملزم کے پاس سے برآمد شدہ جعلی کرنسی کی موجودگی کے علاوہ اس کے خلاف جعلی نوٹ تیار کرنے یا بیچنے کا کوئی ثبوت نہیں ملا اور نہ ہی کسی سابقہ یا ممکنہ خریدار کے بارے میں کوئی ثبوت سامنے لایا گیا ہے۔

تاہم عدالت نے اپنے فیصلے میں یہ بات صاف کر دی کہ یہ تمام باتیں صرف ضمانت کی حد تک محدود ہیں اور ان کا اثر ٹرائل کورٹ کے حتمی فیصلے پر نہیں پڑے گا۔

Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔