ڈی ایچ اے میں بااثر خاتون کے تشدد کا معاملہ، انکوائری رپورٹ کے باوجود پولیس افسران کے خلاف کارروائی نہ ہوسکی

کراچی کے علاقے ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی (ڈی ایچ اے) میں ایک خاندان پر مبینہ تشدد کے معاملے کی انکوائری رپورٹ سامنے آنے کے باوجود ذمہ دار پولیس افسران کے خلاف تاحال محکمانہ کارروائی نہ ہوسکی۔
ذرائع کے مطابق انکوائری رپورٹ سندھ کے انسپکٹر جنرل پولیس کو بھجوائے 24 گھنٹے گزر چکے ہیں، تاہم رپورٹ میں ذمہ دار قرار دیے گئے کسی بھی پولیس افسر کو تاحال معطل نہیں کیا گیا۔
انکوائری رپورٹ میں ایس ایس پی کورنگی فدا حسین جانوری کو بھی واقعے کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے ان کے خلاف محکمانہ کارروائی کی سفارش کی گئی تھی۔ رپورٹ سامنے آنے کے باوجود فدا حسین جانوری بدستور اپنے عہدے پر موجود ہیں۔
رپورٹ میں چار پولیس اہلکاروں کے خلاف بھی محکمانہ کارروائی کی سفارش کی گئی ہے، جن میں ایس ایچ او درخشاں، ایس آئی او اور پولیس موبائل سے متعلق افسر بھی شامل ہیں۔
انکوائری رپورٹ کے مطابق تشدد کی ویڈیو میں نظر آنے والی دو خواتین اور ایک مرد کے خلاف بھی مقدمہ درج کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ متاثرہ خاندان پر مبینہ تشدد کرنے والے افراد فدا حسین جانوری کے قریبی رشتے دار ہیں۔
ذرائع کے مطابق انکوائری کے دوران واقعے سے متعلق دستیاب شواہد اور ویڈیو کا جائزہ لیا گیا، جس کے بعد پولیس افسران اور دیگر افراد کے خلاف کارروائی کی سفارش کی گئی۔
رپورٹ میں واضح طور پر ذمہ داروں کے خلاف محکمانہ اور قانونی کارروائی کی سفارش موجود ہونے کے باوجود تاحال اس پر عملدرآمد نہ ہونا بھی سوالات کو جنم دے رہا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اب معاملے میں آئی جی سندھ کی جانب سے رپورٹ پر فیصلہ اور ذمہ دار افسران کے خلاف کارروائی کا انتظار ہے۔
Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.










