ہفتہ، 5-ستمبر،2026
ہفتہ 1448/03/23هـ (05-09-2026م)

مقبوضہ جموں و کشمیر میں انٹرن ڈاکٹروں کی غیر معینہ مدت ہڑتال پانچویں روز بھی جاری

05 ستمبر, 2026 13:01

مقبوضہ جموں و کشمیر میں کم وظیفے اور معاوضوں کے خلاف انٹرن ڈاکٹروں کی غیر معینہ مدت کی ہڑتال پانچویں روز بھی جاری ہے، جس کے باعث متعدد سرکاری اسپتالوں میں طبی خدمات متاثر ہونے کی اطلاعات ہیں۔

انٹرن ڈاکٹرز ماہانہ وظیفہ 12 ہزار 300 روپے سے بڑھا کر 30 ہزار روپے کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ احتجاجی ڈاکٹروں کا مؤقف ہے کہ وہ طویل ڈیوٹیاں انجام دے رہے ہیں، تاہم انہیں موجودہ وظیفے کی صورت میں روزانہ تقریباً 400 روپے ملتے ہیں۔

احتجاجی ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ ان سے روزانہ 18 گھنٹے تک ڈیوٹی لی جاتی ہے اور گزشتہ سات برس سے ان کے وظیفے میں اضافہ نہیں کیا گیا۔ ڈاکٹروں کے مطابق 25 ہزار روپے ماہانہ وظیفے کی منظوری کے باوجود ان کی فائل محکمہ خزانہ میں مبینہ طور پر التوا کا شکار ہے۔

رپورٹس کے مطابق گورنمنٹ میڈیکل کالج سرینگر اور شیر کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز صورہ میں انٹرن ڈاکٹروں کی ہڑتال کے باعث طبی سرگرمیاں متاثر ہوئی ہیں، جبکہ احتجاجی ڈاکٹروں نے مطالبات تسلیم نہ ہونے کی صورت میں بھوک ہڑتال کی دھمکی بھی دی ہے۔

گورنمنٹ میڈیکل کالج جموں میں بھی نوجوان ڈاکٹروں نے احتجاج کیا اور انتظامیہ کے خلاف نعرے لگائے۔ اننت ناگ، بارہمولہ، راجوری اور کٹھوعہ کے سرکاری اسپتالوں میں بھی انٹرن ڈاکٹرز کے ڈیوٹی سے غیر حاضر رہنے کی اطلاعات ہیں۔

حریت رہنما میر واعظ عمر فاروق نے بھی احتجاجی ڈاکٹروں کے مطالبات کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کو نوجوان ڈاکٹروں کا معاشی استحصال بند کرنا چاہیے۔ ان کا کہنا ہے کہ کشمیری ڈاکٹروں کو بھارتی ڈاکٹروں کے مقابلے میں تین گنا کم معاوضہ کیوں دیا جا رہا ہے۔

میر واعظ عمر فاروق نے کہا کہ وہ نوجوان ڈاکٹروں کے جمہوری مطالبات میں ان کے ساتھ کھڑے ہیں اور حکومت کو فوری طور پر ان کے جائز مطالبات تسلیم کرنے چاہئیں تاکہ وادی میں غریب مریضوں کے علاج پر احتجاج کے منفی اثرات نہ پڑیں۔

دوسری جانب پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی سربراہ محبوبہ مفتی بھی احتجاجی ڈاکٹروں سے اظہار یکجہتی کے لیے رات کے وقت جی ایم سی سرینگر پہنچیں اور دھرنے پر بیٹھے ڈاکٹروں کے ساتھ وقت گزارا۔

محبوبہ مفتی نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ سے مطالبہ کیا کہ انٹرن ڈاکٹروں کے مطالبات پر فوری توجہ دی جائے۔ انہوں نے حکومت کو 7 سے 10 روز کے اندر ڈاکٹروں کی فائل منظور کرنے کا چیلنج بھی دیا۔

احتجاجی ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ کم وظیفے کے باوجود ان سے طویل اوقات تک کام لیا جا رہا ہے، اس لیے حکومت کو ان کے مطالبات پر فوری فیصلہ کرنا چاہیے۔ ڈاکٹروں نے خبردار کیا ہے کہ مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو احتجاج مزید سخت کیا جا سکتا ہے۔

Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔