قومی اسمبلی سیکریٹریٹ میں ورک فرام ہوم پالیسی نافذ، ملازمین کیلئے نئی ہدایات جاری

قومی اسمبلی سیکریٹریٹ نے اخراجات کم کرنے اور ایندھن کی بچت کے لیے نئے کفایت شعاری اقدامات نافذ کردیے ہیں۔
ان اقدامات کے تحت ملازمین کے لیے ورک فرام ہوم پالیسی بھی شروع کردی گئی ہے۔ نئے نظام کے تحت 50 فیصد عملہ دفتر میں کام کرے گا جبکہ باقی 50 فیصد ملازمین گھر سے اپنی ذمہ داریاں انجام دیں گے۔
گھر سے کام کرنے والے ملازمین کے لیے روٹیشن ڈیوٹی روسٹر تیار کیا جائے گا۔ یہ ملازمین فون، ای میل اور واٹس ایپ پر دستیاب رہیں گے۔ ضرورت پڑنے پر انہیں صرف ایک گھنٹے کے نوٹس پر دفتر طلب کیا جاسکے گا۔
قومی اسمبلی سیکریٹریٹ کے مطابق ورک فرام ہوم کرنے والے ملازمین کو ڈیلی الاؤنس اور اوور ٹائم نہیں دیا جائے گا۔ اس کے علاوہ مجاز افسر کی اجازت کے بغیر انہیں اسٹیشن چھوڑنے کی بھی اجازت نہیں ہوگی۔
کفایت شعاری کے اقدامات کے تحت سرکاری گاڑیوں کے لیے ایندھن کی فراہمی میں بھی کمی کردی گئی ہے۔ آئندہ تین ماہ تک گاڑیوں کے لیے فراہم کیے جانے والے ایندھن میں 50 فیصد کمی ہوگی۔ اس کے ساتھ نئی سرکاری گاڑیوں کی خریداری پر مکمل پابندی عائد کردی گئی ہے۔
غیر ترقیاتی بجٹ میں بھی کمی کا فیصلہ
قومی اسمبلی سیکریٹریٹ کے مالی سال 2026-27 کے غیر ترقیاتی بجٹ میں ماہانہ بنیاد پر 5 فیصد کمی کی جائے گی۔ اخراجات کم کرنے کے لیے اجلاسوں کا انعقاد بھی محدود رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
قومی اسمبلی سیکریٹریٹ کے تمام اجلاس ترجیحاً ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے منعقد کیے جائیں گے۔ قائمہ کمیٹیوں کے اجلاس بھی ورچوئل طریقے سے کرنے کی حوصلہ افزائی کی جائے گی۔ اس اقدام کا مقصد سفری اور دیگر انتظامی اخراجات کو کم کرنا ہے۔
کفایت شعاری پالیسی کے تحت تمام پائیدار اشیا کی خریداری پر بھی پابندی عائد کردی گئی ہے۔ تاہم آئی ٹی سے متعلق ضروری سامان اس پابندی سے مستثنیٰ ہوگا۔
بیرون ملک دوروں پر تین ماہ کی پابندی
قومی اسمبلی سیکریٹریٹ میں آئندہ تین ماہ کے لیے بیرون ملک دوروں پر مکمل پابندی ہوگی۔ تاہم اسکالرشپس، تربیتی کورسز اور بین الاقوامی پروگرامز اس پابندی سے مستثنیٰ ہوں گے۔
سرکاری معاہدوں کے تحت ہونے والے تربیتی پروگرام بھی اس پابندی سے باہر رکھے گئے ہیں۔ اس طرح ضروری اور پہلے سے طے شدہ تربیتی سرگرمیوں کو جاری رکھنے کی اجازت ہوگی۔
غیر ملکی وفود کے علاوہ سرکاری عشائیوں کے انعقاد پر بھی پابندی ہوگی۔ حکومت کی جانب سے فنڈ کیے جانے والے سیمینارز اور کانفرنسز بھی منعقد نہیں کیے جائیں گے۔ تاہم اگر کوئی تقریب ناگزیر ہو تو اس کے لیے آڈیٹوریم اور دیگر دستیاب سرکاری سہولیات استعمال کی جائیں گی۔
پیپر لیس ورکنگ پر بھی زور
اخراجات میں مزید کمی کے لیے قومی اسمبلی سیکریٹریٹ میں پیپر لیس ورکنگ ماحول اپنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس سے کاغذ، پرنٹنگ اور متعلقہ دفتری اخراجات کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
قومی اسمبلی سیکریٹریٹ کے مطابق تمام نئے کفایت شعاری اقدامات فوری طور پر نافذ کردیئے گئے ہیں۔ یہ اقدامات مزید احکامات جاری ہونے تک برقرار رہیں گے۔
Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.









