اتوار، 27-ستمبر،2026
اتوار 1448/04/16هـ (27-09-2026م)

دہشت گردی کے خلاف بند کمروں کی پالیسی نہیں مانتے، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا

27 ستمبر, 2026 15:24

سہیل آفریدی کا کہنا ہے کہ کے پی کے عوام کو اعتماد میں لیے بغیر امن قائم نہیں ہو سکتا، بند کمروں کی پالیسیوں کو نہیں مانتے۔

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل خان آفریدی نے ڈیرہ اسماعیل خان کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے امن میلہ چیک پوسٹ پر دہشت گردوں کے بزدلانہ حملے میں زخمی ہونے والے افراد کی اسپتال میں عیادت کی، ان کی خیریت دریافت کی اور علاج معالجے کے حوالے سے طبی حکام سے تفصیلی بریفنگ لی۔

دورے کے دوران وہ سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کی رہائشگاہ الامین ہاؤس بھی گئے، جہاں انہوں نے میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے وفاق اور موجودہ ملکی حالات پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔

پریس کانفرنس کے دوران وزیراعلیٰ نے درازندہ کے واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس دہشت گردی کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔

یہ بھی پڑھیں : ڈیرہ اسماعیل خان دھماکے کے تین شہید اہلکاروں کی نماز جنازہ ادا کردی گئی

انہوں نے کہا کہ جب صوبے میں دہشت گردی ہو رہی تھی تو ہم پہلے ہی سے چیخ رہے تھے کیونکہ ہم حالات کو دیکھ رہے تھے۔ اس جنگ میں صرف خیبر پختونخوا کے عوام ہی نہیں بلکہ پاک فوج کے جوان بھی شہید ہو رہے ہیں اور ہر بندہ جانتا ہے کہ ان کے خون کا سودا کون کر رہا ہے۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ جس پارٹی کو ہم پر مسلط کیا گیا ہے وہ کہتی ہے کہ کے پی کے لوگ دہشت گرد ہیں، حالانکہ ہم نے پولیس کے امن کے لیے 35 ارب روپے دیے ہیں اور ہمیں اپنا امن اور اپنے عوام عزیز ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وفاق پر چوروں کا ٹولہ قابض ہے، ہمیں اے پی سی گاڑیاں نہیں دی جا رہی ہیں جبکہ ان کی پیمنٹ بھی کی جا چکی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ وفاق اپنی اے پی سی گاڑیاں ہمیں دے کیونکہ وہ ہمارے صوبے کے لیے استعمال ہونی چاہئیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ دہشت گردی کے خلاف بند کمروں کی پالیسیوں کو نہیں مانتے اور کے پی کے عوام کو اعتماد میں لیے بغیر امن قائم نہیں ہو سکتا، جبکہ دہشت گردی کی لہر میں شہید ہونے والے ہر فرد کو شہید پیکج دیا جائے گا۔

Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔