کوئٹہ کان حادثہ : غیر قانونی بارود کا استعمال ہلاکتوں کی وجہ قرار، انکوائری رپورٹ میں انکشاف

کوئٹہ کان کے حادثے کی انکوائری رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ 34 کان کنوں کی ہلاکت غیر قانونی طور پر بارودی مواد کے استعمال اور حفاظتی قوانین کی خلاف ورزی کی وجہ سے ہوئی۔
کوئٹہ سے تقریباً 30 کلومیٹر جنوب مشرق میں واقع سور رینج کے علاقے میں 30 جولائی 2026 کو پیش آنے والے اس ہولناک حادثے کی تحقیقاتی رپورٹ سامنے آ گئی ہے۔
وزیراعلیٰ بلوچستان کی انسپکشن ٹیم کے چیئرمین بشیر احمد بنگلزئی کی سربراہی میں تیار کردہ اس رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ دھماکہ کان کے اندر غیر قانونی طور پر بارودی مواد کے استعمال کی وجہ سے ہوا۔ کان میں بلاسٹنگ کی وجہ سے باریک دھول پھیلی جو آگ کا سبب بنی اور مائنز انتظامیہ کو معلوم ہونے کے باوجود اس کو نظرانداز کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں : لوئر دیر کے مختلف علاقوں میں پراسرار بخار سے 10 افراد جاں بحق
رپورٹ کے مطابق حادثے کے وقت دونوں جڑی ہوئی کانوں میں 32 کان کن کام کر رہے تھے، جن میں سے صرف ایک زندہ باہر نکل سکا جبکہ دیگر اپنے ساتھیوں کو بچانے کے لیے اندر گئے اور جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ طبی معائنے سے پتہ چلا کہ 5 کان کن جلنے اور 29 دم گھٹنے سے جاں بحق ہوئے۔
تحقیقات میں یہ بھی انکشاف ہوا کہ جاں بحق ہونے والوں میں 6 کان کن 18 سال سے کم عمر تھے، جن میں سے دو کی عمریں 17 سال سے بھی کم تھیں۔
کمیٹی نے کان مالکان، انتظامیہ اور پاکستان منرل ڈیویلپمنٹ کارپوریشن (پی ایم ڈی سی) کے حکام کے خلاف فوجداری کارروائی کی سفارش کی ہے۔
Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.









