ورلڈ کپ سے باہر ہونے کے باوجود فلسطین اور غزہ کی حمایت کرنے پر مصر کی ٹیم ہیرو بن گئی

ارجنٹائن کے خلاف متنازع شکست کے بعد ورلڈ کپ سے باہر ہونے والی مصر کی ٹیم کو فلسطین اور غزہ کی حمایت کرنے پر عرب دنیا اور سوشل میڈیا پر ہیرو کا درجہ مل گیا۔
مصر کا ورلڈ کپ میں تاریخی سفر ارجنٹائن کے خلاف 3-2 کی متنازع ہار کے ساتھ ختم ہو گیا ہے، لیکن اس شکست کے بعد مصری ٹیم کو دنیا بھر سے خصوصاً عرب ممالک سے زبردست پذیرائی مل رہی ہے۔
ارجنٹائن نے 2-0 کے خسارے کے بعد آخری منٹوں میں واپسی کی، جس پر مصری کھلاڑی اور شائقین ریفری کے فیصلوں کی وجہ سے شدید مایوس نظر آئے۔
میچ کے آخری 15 منٹ میں ارجنٹائن کے کئی فاؤل ریفری نے نظر انداز کیے اور مصر کو 4 یلو کارڈ دیئے گئے، جن میں ایک کوچ حسام حسن کو ملا۔
میچ کے دوران مصری کوچ حسام حسن نے اپنے ہاتھ کراس کر کے ’ایکس‘ کا نشان بنایا، جو فیفا کے قوانین کے مطابق نسل پرستی کے خلاف ریفری کو میچ روکنے کا اشارہ ہوتا ہے، مگر ریفری نے اس پر کوئی توجہ نہیں دی اور کچھ منٹ بعد میچ ختم کرنے کی سیٹی بجا دی۔
سوشل میڈیا پر اس ناانصافی کے خلاف شدید غصہ دیکھا جا رہا ہے، جبکہ مصری فٹ بال فیڈریشن نے کھلاڑیوں کو ان کی مردانہ وار کارکردگی پر مبارکباد دی ہے۔
یہ بھی پڑھیں : مصر کی ٹیم کے ساتھ ناانصافی اور دھوکہ ہوا ہے، مصری فٹبال کوچ
عرب دنیا نے مصری ٹیم کو فخر اور محبت کے ماحول میں لپیٹ لیا ہے۔ مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی نے ٹیم کی تعریف کرتے ہوئے ایکس پر لکھا کہ ہمیں آپ کی اس شاندار کارکردگی اور کامیابی پر فخر ہے اور آپ کا مستقبل روشن ہے۔
شائقین نے کوچ حسام حسن کی تعریف کی، جنہوں نے آسٹریلیا کے خلاف پچھلی جیت کے بعد فلسطین کا جھنڈا میدان میں لہرایا تھا اور کہا تھا کہ وہ یہ جیت مصر اور فلسطین کے معزز عوام کے نام کرتے ہیں۔ برطانیہ میں فلسطینی سفیر نے بھی مصری ٹیم کی تعریف کی اور ریفری کے فیصلوں پر تنقید کی۔
غزہ کے ایک مداح نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ غزہ کے لوگ تباہ شدہ عمارتوں کے ملبے کے درمیان مصری جھنڈے لگا کر یہ میچ دیکھ رہے تھے اور عارضی طور پر اپنی روزمرہ کی تکلیفیں بھول گئے تھے، لیکن فیفا کے کرپٹ ریفری نے فلسطینیوں کی یہ چھوٹی سی خوشی بھی چھین لی کیونکہ یہ ٹیم فلسطین کا جھنڈا اٹھاتی تھی۔
دوسری طرف مصری کھلاڑی مصطفیٰ زیکو نے انٹرویو میں کہا کہ ریفری کا فیصلہ ناانصافی پر مبنی تھا اور یہ کھلا ظلم ہے۔
انگلینڈ کے سابق فٹ بالر جیمی کیراگھر اور پرتگال کے مشہور کوچ ہوسے مورینہو نے بھی ریفری اور ویڈیو اسسٹنٹ ریفری کے فیصلوں پر شدید تنقید کی ہے اور اسے دن دہاڑے ڈکیتی قرار دیا ہے۔ اس سب کے باوجود جب مصری ٹیم ہوٹل پہنچی تو شائقین نے جھنڈے لہرا کر ان کا ایک ہیرو کی طرح شاندار استقبال کیا۔
Catch all the کھیل News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












