غزہ سے فلسطینیوں کو کیسے نکالا جائے؟ موساد کو نیا ٹاسک مل گیا

قابض اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے خفیہ ایجنسی موساد کو غزہ سے فلسطینوں کی جبری بےخلی کا ٹاسک سونپ دیا۔
امریکی خبر رساں ایجنسی کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ قابض صہیونی ریاست کے وزیراعظم نیتن یاہو نے موساد کو ایسے ممالک کی تلاش کا مشن سونپا ہے جو غزہ کے فلسطینیوں کی جبری بےدخلی کے بعد انہیں اپنے ملک میں قبول کرنے پر رضامند ہوسکتے ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس سلسلے میں امریکی اور اسرائیلی حکام کی صومالیہ اور جنوبی سوڈان اور کچھ دوسری حکومتوں جیسے انڈونیشیا کے ساتھ بات چیت جاری ہے۔
مزید پڑھیں: فلسطینیوں کی غزہ سے بےدخلی؛ امریکا نے افریقی ممالک بات چیت تیز کردی
خبت ایجنسی نے رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ نیتن یاہو نے چند ہفتے قبل یہ خفیہ مشن موساد کو سونپا تھا۔
ایکسیوس نے ایک امریکی ذریعے کا حوالہ دیتے ہوئے مزید کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ غزہ کے باشندوں کی جبری بے دخلی کے منصوبے پر سنجیدگی سے عمل نہیں کررہے تاہم صہیونی ریاست اس پر عملدآمد کروانے کی خواہاں ہے۔
مزید پڑھیں: فلسطینیوں کی مستقل نقلِ مکانی؛ ٹرمپ بیان سے پیچھے ہٹ گئے
امریکی ذرائع کے حوالے سے رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکی ایلچی سٹیو وٹکوف غزہ میں ایک نئے معاہدے پر پہنچنے کے خواہاں ہیں جو اسرائیلی قیدیوں کی رہائی کی ضمانت دے سکے۔
واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس سے قبل غزہ میں فلسطینوں کی جبری بےدخلی اور انہیں دوسرے ممالک میں بھیجنے کا سوشہ چھوڑ چکے ہیں، جس پر عرب ریاستوں نے شدید تنقید کی تھی۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












