خاتون کا اسرائیلی مفادات کے تحفظ کیلئے ٹرمپ کو 40 ملین ڈالرز کا عطیہ

اسرائیل کی سب سے بڑی حامی اور ارب پتی خاتون نے ریپبلکن پارٹی کے فنڈز میں 40 ملین ڈالرز جمع کروا دیے، جس کا مقصد ٹرمپ کی سیاسی مہم کو مضبوط بنانا اور اسرائیل نواز خارجہ پالیسی کو برقرار رکھنا ہے۔
اسرائیل کی معروف ترین مالی معاون مریم ایڈلسن نے ریپبلکن پارٹی کے انتخابی فنڈز میں 40 ملین ڈالرز کا بھاری عطیہ جمع کروا کر سیاسی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے۔
بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق یہ خطیر رقم وسط مدتی انتخابات سے قبل صدر ٹرمپ کی سیاسی مشینری کو مضبوط کرنے کے لیے استعمال کی جائے گی۔
تفصیلات کے مطابق اس فنڈ میں سے 30 ملین ڈالرز سینیٹ کے ریپبلکن امیدواروں کے لیے جبکہ 10 ملین ڈالرز ایوان نمائندگان کی انتخابی مہمات کے لیے مختص کیے گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ نے موسمیاتی تبدیلی کے ایجنڈے کو دفن کر دیا
یہ محض سیاسی حمایت نہیں بلکہ ایک طرح کی ملکیت ہے، جس کے ذریعے بڑے سرمایہ کار امریکی خارجہ پالیسی پر اثر انداز ہوتے ہیں۔
ایک ایسے وقت میں جب ٹرمپ کا عوامی ووٹ بینک دباؤ کا شکار ہے اور ریپبلکن پارٹی کو ایک مشکل انتخابی دور کا سامنا ہے، مریم ایڈلسن کی جانب سے آنے والی یہ بھاری رقم پارٹی کے لیے آکسیجن کا کام کرے گی۔
ریپبلکن پارٹی اب عام ووٹرز کی نمائندہ رہنے کے بجائے ان ارب پتیوں کے ہاتھوں میں کھیل رہی ہے، جن کی ترجیحات امریکی مفادات کے بجائے مخصوص غیر ملکی ایجنڈے اور اسرائیل نوازی پر مبنی ہیں۔
یہ صورتحال امریکی جمہوری عمل میں سرمائے کے بے جا استعمال اور بیرونی اثر و رسوخ کی عکاسی کرتی ہے۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.











