جمعرات، 16-اپریل،2026
جمعرات 1447/10/28هـ (16-04-2026م)

ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ نے موسمیاتی تبدیلی کے ایجنڈے کو دفن کر دیا

16 اپریل, 2026 10:13

ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی حالیہ عسکری سرگرمیوں نے دنیا بھر میں موسمیاتی تبدیلیوں سے متعلق کیے جانے والے تمام دعوؤں اور وعدوں کی قلعی کھول دی ہے۔

ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی گزشتہ چھ ہفتوں سے جاری معاندانہ کارروائیوں نے موسمیاتی تبدیلیوں کے نام پر کی جانے والی سیاست کا مکمل طور پر خاتمہ کر دیا ہے۔

جیسے ہی عالمی سطح پر تیل کی ترسیل متاثر ہوئی اور صنعتی مسابقت نے شدت اختیار کی، ماحولیاتی تحفظ کا دم بھرنے والے عالمی ادارے اور شخصیات خاموشی اختیار کر گئے ہیں۔

اس وقت صورتحال یہ ہے کہ دنیا کا تقریباً بیس فیصد تیل آبنائے ہرمز سے گزرتا ہے، لیکن ڈرون حملوں اور میزائلوں کے خوف نے اس لائف لائن کو شدید خطرے میں ڈال دیا ہے، جس کے باعث انشورنس ریٹ بڑھ گئے ہیں اور عالمی مارکیٹ میں شدید بے یقینی کی لہر دوڑ گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں : ایران امریکی پابندیوں اور جنگ کے باوجود تیل کی برآمدات جاری رکھنے میں کامیاب

ایک جانب مصنوعی ذہانت کے بڑے ڈیٹا سینٹرز ایک درمیانے درجے کے شہر جتنی بجلی استعمال کر رہے ہیں اور امریکہ کو اپنی ضرورت پوری کرنے کے لیے اضافی پیداوار درکار ہے، وہیں دوسری جانب جرمنی میں دوبارہ کوئلے کے استعمال پر بحث شروع ہو گئی ہے اور برطانیہ بحیرہ شمالی میں تیل کے نئے لائسنس جاری کر رہا ہے۔

امریکہ خود بھی اپنی گیس کی برآمدات میں اضافہ کر رہا ہے اور یورپ میں ایٹمی منصوبے دوبارہ شروع کیے جا رہے ہیں۔ یہ تمام حالات اس بات کا بین ثبوت ہیں کہ کلائمٹ پینک یا موسمیاتی تبدیلیوں کا خوف دراصل کرہ ارض کو بچانے کے لیے نہیں بلکہ صرف دنیا پر کنٹرول حاصل کرنے کے لیے پیدا کیا گیا تھا۔

جنگ نے ثابت کر دیا ہے کہ جب بقا کی بات آتی ہے تو کوئی بھی ملک ماحولیات کی پرواہ نہیں کرتا بلکہ وہ صرف توانائی کے ذخائر پر غلبہ پانا چاہتا ہے۔

Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔