افغانستان میں سیکیورٹی بحران شدت اختیار کر گیا، امدادی کارکن غیر محفوظ، اقوام متحدہ کا الرٹ جاری

اقوام متحدہ نے افغانستان میں سیکیورٹی کی سنگین صورتحال اور امدادی کارکنوں پر بڑھتے ہوئے حملوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔
اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسانی امدادی رابطہ یعنی ‘اوچا’ نے افغانستان میں سیکیورٹی کی بگڑتی ہوئی صورتحال اور مفلوج امدادی نظام پر ایک خطرناک الرٹ جاری کر دیا ہے۔
عالمی ادارے کی رپورٹ کے مطابق دہشت گردوں کی سرپرست افغان طالبان رجیم عوامی فلاح و بہبود کے اقدامات کو مکمل طور پر پسِ پشت ڈال چکی ہے، جس کے نتیجے میں ملک میں انسانی بحران سنگین ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔
‘اوچا’ کے انکشاف کے مطابق رواں برس مارچ کے مہینے میں امدادی سرگرمیوں کے خلاف کل چھیاسی پرتشدد واقعات رپورٹ ہوئے، جن میں ایک امدادی کارکن اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔
یہ بھی پڑھیں : افغان شہری کا طالبان رجیم سے نفرت کا اظہار، پاکستانی عسکری قیادت کی حمایت میں ویڈیو
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ طالبان دورِ حکومت میں خواتین پر کام کی پابندیاں بدستور برقرار ہیں اور امدادی سرگرمیوں میں خواتین کی شرکت پر رکاوٹ ڈالنے کے چودہ کیسز سامنے آئے ہیں۔
گلوبل فوڈ کرائسس 2026 کی رپورٹ میں افغانستان کو شدید غذائی عدم تحفظ کے شکار ممالک کی فہرست میں دنیا بھر میں پانچویں نمبر پر رکھا گیا ہے۔
لاکھوں افغان شہری تاحال انسانی امداد کے محتاج ہیں لیکن سیکیورٹی بحران اور طالبان کی جانب سے رسائی میں رکاوٹوں نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
دفاعی اور سماجی ماہرین کا کہنا ہے کہ طالبان رجیم کی تمام تر ترجیحات صرف عسکری اور شدت پسندانہ مقاصد تک محدود ہیں اور اس مجرمانہ غفلت کا خمیازہ معصوم افغان عوام بھگت رہے ہیں۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.











