ایران کا ایک اور تیل بردار جہاز امریکی بحریہ کو چکمہ دے کر انڈونیشیا کی حدود میں داخل

بحری نگرانی کرنے والی فرم کے مطابق ایران کا ایک اور بڑا تیل بردار جہاز لاکھوں بیرل خام تیل لے کر امریکی بحریہ کی نظروں سے بچتے ہوئے انڈونیشیا کی سمندری حدود میں داخل ہو گیا ہے۔
تیل بردار جہازوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے والی عالمی کمپنی ’ٹینکر ٹریکرز‘ نے انکشاف کیا ہے کہ ایران کا ایک اور سپر ٹینکر امریکی بحریہ کے حصار کو توڑتے ہوئے انڈونیشیا کی آبنائے لومبوک میں داخل ہو گیا ہے اور اب وہ ریاؤ جزائر کی طرف بڑھ رہا ہے۔
’دریا‘ نامی یہ بڑا بحری جہاز 18 لاکھ اسی ہزار بیرل ایرانی خام تیل لے کر جا رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس جہاز نے اپریل کے وسط میں بھارت کو تیل پہنچانے کی کوشش کی تھی جو ناکام رہی، جس کے بعد اسے جنوب کی طرف جاتے ہوئے دیکھا گیا۔
ٹینکر ٹریکرز کے مطابق یہ ایران کا دوسرا بڑا تیل بردار جہاز ہے، جس نے حالیہ دنوں میں امریکی بحریہ کو چکمہ دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : ٹرمپ کا آبنائے ہرمز میں پھنسے بحری جہازوں کو نکالنے کیلئے ’پروجیکٹ فریڈم‘ کا اعلان
اس سے قبل ’ہیوج‘ نامی ایک اور سپر ٹینکر، جس پر انیس لاکھ بیرل تیل لدا ہوا تھا، وہ بھی آبنائے لومبوک سے گزر کر اپنی منزل کی طرف بڑھنے میں کامیاب رہا تھا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایرانی جہازوں کی جانب سے اس طرح کے خفیہ راستوں کا استعمال اور امریکی بحریہ کی نگرانی سے بچ نکلنا تہران کی جانب سے پابندیوں کے باوجود تیل کی برآمدات جاری رکھنے کی ایک بڑی کوشش ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اپریل کے مہینے میں مجموعی طور پر پچیس ایرانی ٹینکر خام تیل لے کر روانہ ہوئے تھے۔
ان میں سے امریکی بحریہ نے سات جہازوں کا راستہ روک کر انہیں واپس ایرانی بندرگاہوں کی طرف بھیج دیا، جبکہ دو جہازوں کو امریکی افواج نے اپنی تحویل میں لے لیا۔
تاہم، باقی جہاز یا تو اپنی طے شدہ منزل تک پہنچنے میں کامیاب رہے یا پھر ان مقامات پر پہنچ گئے، جہاں سے تیل کی اگلی ترسیل ہونی تھی۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












