جمعہ، 15-مئی،2026
جمعہ 1447/11/28هـ (15-05-2026م)

فائیو جی ٹیکنالوجی کی دوڑ میں چین کی واضع برتری، امریکہ اور مغرب کو پیچھے چھوڑ دیا

15 مئی, 2026 12:04

چین نے فائیو جی ٹیکنالوجی کے میدان میں امریکہ کو بہت پیچھے چھوڑ دیا ہے، جس کے 48 لاکھ سے زائد بیس اسٹیشنز پوری دنیا میں سب سے زیادہ ہیں۔ چین نے فائیو جی کے ذریعے اپنی صنعتوں، اسپتالوں اور لاجسٹکس کو مکمل طور پر خودکار بنا دیا۔

فائیو جی ٹیکنالوجی کی عالمی دوڑ اب محض اسمارٹ فون کی رفتار تک محدود نہیں رہی بلکہ یہ اکیسویں صدی کے صنعتی ڈھانچے پر قبضے کی جنگ بن چکی ہے۔

تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق چین 2026 تک 48 لاکھ سے زائد فائیو جی بیس اسٹیشنز نصب کر چکا ہے، جبکہ امریکہ میں ان کی تعداد بمشکل تین سے پانچ لاکھ کے درمیان ہے۔

چین میں ہر دس مربع میل پر پانچ ٹاور موجود ہیں جبکہ امریکہ میں یہ شرح صفر اعشاریہ چار ہے، جو کہ چین کے مقابلے میں دس گنا سے بھی کم ہے۔

اصل فرق اسٹینڈ الون فائیو جی نیٹ ورک کا ہے، جو مصنوعی ذہانت سے چلنے والی فیکٹریوں، خودکار لاجسٹکس اور ٹیلی سرجری کے لیے ضروری ہے۔

یہ بھی پڑھیں : چین ایران سے بڑے پیمانے پر تیل کی خریداری جاری رکھے گا، ٹرمپ

چین میں اس ٹیکنالوجی کا استعمال اسی فیصد تک پہنچ چکا ہے جبکہ امریکہ میں یہ صرف تیس فیصد ہے۔ چین نے ایک لاکھ سے زائد نجی صنعتی نیٹ ورکس قائم کر لیے ہیں، جہاں اسمارٹ پورٹس اور مکمل خودکار فیکٹریاں معمول بن چکی ہیں۔

فائیو جی کی کم ترین تاخیر یعنی لیٹنسی کی وجہ سے بیجنگ میں بیٹھا سرجن افریقہ میں مریض کا کامیاب آپریشن کر سکتا ہے، جو کہ فور جی پر ناممکن تھا۔

چین نے اب سکس جی کی جانب بھی قدم بڑھا دیئے ہیں اور مئی 2026 میں چھ گیگا ہرٹز بینڈ کے ٹیسٹ شروع کر دیے ہیں۔

عالمی سطح پر سکس جی کے چالیس فیصد پیٹنٹ چین کے پاس ہیں اور ہواوے، زیڈ ٹی ای جیسی کمپنیاں دوسرے مرحلے کے ٹرائلز میں داخل ہو چکی ہیں۔

چین کا ہدف 2030 تک سکس جی کو تجارتی سطح پر لانچ کرنا ہے، جبکہ امریکہ ابھی تک اس کی منصوبہ بندی کے مراحل میں ہے۔

یہ واضح ہے کہ چین نے مستقبل کے اے آئی انٹیگریٹڈ ڈھانچے کی بنیاد رکھ دی ہے اور امریکہ اس خلا کو پُر کرنے کی جدوجہد کر رہا ہے۔

Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔