امریکی پابندیاں ناکام، چین کی اے آئی چپس کی صنعت میں حیران کن ترقی اور خود انحصاری

چین نے مصنوعی ذہانت کے چپس کی تیاری میں غیر معمولی خود انحصاری حاصل کر لی ہے۔ امریکی پابندیوں کے باوجود چین کی اے آئی چپس کی پیداوار 2030 تک چھیاسی فیصد تک پہنچنے کی توقع ہے، جو واشنگٹن کی برآمدی کنٹرول کی پالیسیوں کی ناکامی کا ثبوت ہے۔
امریکی پابندیوں نے چین کو ٹیکنالوجی کے میدان میں پیچھے دھکیلنے کے بجائے اسے خود انحصاری کی راہ پر ڈال دیا ہے۔
مورگن اسٹینلے کے مطابق چین کی اے آئی چپس کی خود کفالت کا تناسب پانچ سال پہلے کے دس فیصد سے بڑھ کر 2025 میں اکتالیس فیصد ہو چکا ہے اور 2030 تک اس کے چھیاسی فیصد تک پہنچنے کا امکان ہے۔
چینی اے آئی چپس کی مقامی مارکیٹ 2030 تک سڑسٹھ ارب ڈالر تک پہنچ جائے گی، جس سے درآمدی چپس پر انحصار مکمل طور پر ختم ہو جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں : چینی اور روسی بحریہ کا مقابلہ کرنے کیلئے امریکہ کے پاس جدید آبدوزوں کی شدید کمی
چین کی اس کامیابی کے پیچھے حکومت کی بھرپور مالی معاونت اور ہواوے جیسی قومی کمپنیوں کی محنت شامل ہے۔ امریکی جی پی یوز تک رسائی نہ ہونے کی وجہ سے چینی کمپنیوں نے اپنے مقامی حل تلاش کیے، جو نہ صرف کارکردگی میں بہتر ہیں بلکہ ان کی لاگت بھی امریکی چپس کے مقابلے میں تیس سے ساٹھ فیصد کم ہے۔
اس طرح واشنگٹن کی چھوٹے صحن اور اونچی دیوار والی پالیسی نے چین کو اپنا متوازی ایکو سسٹم بنانے پر مجبور کر دیا ہے۔
اس تبدیلی کے معاشی ثمرات بھی ظاہر ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ چین اب مصنوعی ذہانت سے متعلقہ اشیا کا دنیا کا سب سے بڑا فراہم کنندہ بن کر ابھرا ہے۔
سیمی کمڈکٹر اور کمپیوٹر کی برآمدات نے ریکارڈ توڑ دیئے ہیں اور چین اب اے آئی سے لیس مصنوعات کی برآمد سے ہر گھنٹے میں تقریباً پچاس کروڑ ڈالر کما رہا ہے۔
جو دباؤ چین کو کمزور کرنے کے لیے ڈالا گیا تھا، وہ اب اس کے لیے ایک مستقل ڈھانچہ جاتی فائدے میں تبدیل ہو چکا ہے، جس سے اکیسویں صدی کی اہم ترین ٹیکنالوجی پر بیجنگ کی گرفت مضبوط ہو گئی ہے۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.










