جمعہ، 15-مئی،2026
جمعہ 1447/11/28هـ (15-05-2026م)

سرکاری ملازمین کی ترقی پر لاہور ہائیکورٹ کا اہم فیصلہ

15 مئی, 2026 11:29

لاہور ہائیکورٹ نے سرکاری ملازمین کی ترقیوں کے حوالے سے ایک تاریخی فیصلہ سنا دیا ہے جسے عدالتی نظیر قرار دیا گیا ہے۔ جسٹس محمد ساجد محمود سیٹھی نے سات صفحات پر مشتمل یہ تحریری فیصلہ جاری کیا۔

فیصلے کا مرکزی نکتہ یہ ہے کہ اپ گریڈیشن کسی سرکاری ملازم کا قانونی یا موروثی حق نہیں ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ یہ معاملہ خالصتاً انتظامی پالیسی اور ایگزیکٹو اتھارٹی کے دائرہ اختیار میں آتا ہے — عدالتیں محض پالیسی اختلاف کی بنیاد پر حکومتی فیصلوں میں مداخلت نہیں کر سکتیں۔

عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ صرف کام کی نوعیت ایک جیسی ہونے سے کوئی ملازم اپ گریڈیشن کا حقدار نہیں بن جاتا۔ اپ گریڈیشن کا تعلق عہدے سے ہے، اس پر تعینات فرد سے نہیں — یعنی اگر کوئی عہدہ اپ گریڈ نہیں ہوا تو اس پر بیٹھا ملازم خود بخود ترقی کا دعویٰ نہیں کر سکتا۔ سروس کیڈرز کی تشکیل اور تنخواہوں کے اسکیل کا تعین کرنا حکومت کا کام ہے۔

آئین کے آرٹیکل 25 کے حوالے سے عدالت نے کہا کہ مساوی سلوک کا حق صرف قانونی طور پر برابر عہدوں کے لیے ہے — محض عہدوں کی겉ظاہری مماثلت کی بنیاد پر یہ حق نہیں مانگا جا سکتا۔

یہ مقدمہ سرکاری ملازم محمد منیر کی رٹ پٹیشن سے متعلق تھا جنہوں نے گریڈ 7 سے گریڈ 14 میں اپ گریڈیشن نہ ملنے کے محکمانہ فیصلے کو چیلنج کیا تھا۔ عدالت نے درخواست میرٹ پر پورا نہ اترنے کی بنا پر خارج کر دی اور محکمے کے تمام سابقہ احکامات کو برقرار رکھا۔

یہ فیصلہ ہزاروں سرکاری ملازمین کے لیے ایک واضح پیغام ہے کہ اپ گریڈیشن کے مطالبات کو عدالتی راستے سے نہیں، بلکہ انتظامی چینل کے ذریعے ہی آگے بڑھایا جا سکتا ہے۔

Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔