امریکی ایوان نمائندگان میں صدر ٹرمپ کے جنگی اختیارات محدود کرنے کی قرارداد منظور

امریکی ایوان نمائندگان نے صدر ٹرمپ کے ایران کے خلاف فوجی اختیارات کو محدود کرنے اور کانگریس کی منظوری کے بغیر جنگ روکنے کی قرارداد منظور کر لی ہے۔
امریکی ایوان نمائندگان میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جنگی پالیسیوں کے خلاف ایک اہم قرارداد 208 کے مقابلے میں 215 ووٹوں سے منظور کر لی گئی ہے۔
اس قرارداد کے حق میں 4 ریپبلکن ارکان نے بھی اپنی ہی پارٹی کے صدر کے خلاف جا کر ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کانگریس کے اندر ایران جنگ کے پھیلاؤ پر شدید تشویش پائی جاتی ہے۔
یہ قرارداد صدر کے جنگی اختیارات کو محدود کرتی ہے اور اس کے تحت کانگریس کی باقاعدہ منظوری کے بغیر ایران کے خلاف مزید فوجی کارروائی نہیں کی جا سکے گی۔
یہ بھی پڑھیں : ایران اور لبنان میں جنگ کا خاتمہ ایک ساتھ ہونا ضروری ہے، ایرانی وزیر خارجہ
ایوان نمائندگان سے منظور ہونے والی اس قرارداد کو اب منظوری کے لیے سینیٹ میں پیش کیا جائے گا، جہاں سے پاس ہونے کے بعد بھی اسے صدر ٹرمپ کی جانب سے ویٹو کیے جانے کا قوی امکان ہے۔
صدر کے ویٹو کو ختم کرنے کے لیے کانگریس کے دونوں ایوانوں میں دو تہائی اکثریت کی ضرورت ہوگی۔ قرارداد کے حق میں ووٹ دینے والے 4 ریپبلکن ارکان میں مشی گن سے ٹام بیریٹ، اوہائیو سے وارن ڈیوڈسن، پنسلوانیا سے برائن فٹزپیٹرک اور کینٹکی سے تھامس میسی شامل ہیں۔
تھامس میسی جو اس جنگ کے بڑے مخالف رہے ہیں، حال ہی میں اپنی نشست کی بنیادی دوڑ ہار چکے ہیں اور اب ان کی جگہ ٹرمپ کے حمایت یافتہ امیدوار ایڈ گیلرین الیکشن لڑیں گے۔
ڈیموکریٹس اس قرارداد پر مکمل متحد نظر آئے۔ گزشتہ ماہ سینیٹ نے بھی اسی طرح کی ایک قرارداد کو ابتدائی کارروائی میں آگے بڑھایا تھا، تاہم سینیٹ میں اس پر حتمی ووٹنگ کب ہوگی، یہ ابھی واضح نہیں ہے۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.











