ایران نے اپنی عسکری حکمت عملی دفاعی کے بجائے جارحانہ کردی، پیشگی حملے کا انتباہ

ایرانی فوج کے ایک سینیئر کمانڈر نے اعلان کیا ہے کہ ایران کی عسکری حکمت عملی دفاعی پوزیشن سے تبدیل ہو کر اب مکمل طور پر جارحانہ ڈاکٹرائن میں بدل چکی ہے۔
ایران کے آرمی اسٹریٹجک اسٹڈیز اینڈ ریسرچ سینٹر کے سربراہ جنرل احمد رضا پوردستان نے ملک کی فوجی حکمت عملی میں بڑی تبدیلی کا انکشاف کیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ایرانی فوج اب دفاعی حکمت عملی کے بجائے جارحانہ ڈاکٹرائن پر منتقل ہو چکی ہے۔ اس نئی حکمت عملی کے تحت ایران دشمن پر پیشگی حملہ کرنے کا حق رکھتا ہے اور اگر قومی مفاد کا تقاضا ہوا تو ایران نامعلوم میدانوں میں دشمن پر اچانک اور شدید ترین پیشگی حملہ کر کے اسے حیران کر سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : امریکی سینیٹ نے ایران کے خلاف ٹرمپ کے جنگی اختیارات محدود کرنے کا بل منظور کر لیا
ایرانی کمانڈر کا کہنا تھا کہ ملک کی مسلح افواج نے ابھی تک اپنی دفاعی اور عسکری صلاحیتوں کا ایک بڑا حصہ میدان میں اتارا ہی نہیں ہے، اور وہ لبنان کے عوام کے دفاع کے لیے ہر وقت مکمل تیار ہیں۔
واضح رہے کہ سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے دور میں ایران کی فوجی حکمت عملی کو حکمت عملی کے تحت صبر کا نام دیا جاتا تھا، جسے ماہرین سوچا سمجھا احتیاط کا انداز کہتے تھے، جہاں براہ راست تصادم کے بجائے دشمن کو روکنے پر توجہ دی جاتی تھی۔
لیکن امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر مسلط کردہ حالیہ جنگ کے بعد تہران نے اپنی حکمت عملی بدل دی ہے۔ اب ایران نے متحرک اور بے مثال جواب کا طریقہ کار اپنایا ہے، جس کے تحت اس نے مڈل ایسٹ بشمول کویت، متحدہ عرب امارات، بحرین اور اسرائیل میں امریکی ٹھکانوں کو نشانہ بنا کر اپنی طاقت کا مظاہرہ کیا ہے۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.











