امریکی سینیٹ نے ایران کے خلاف ٹرمپ کے جنگی اختیارات محدود کرنے کا بل منظور کر لیا

امریکی سینیٹ نے ایران کے خلاف صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے فوجی اختیارات کو محدود کرنے کا بل منظور کر لیا ہے، جس کے تحت اب مزید کارروائی کے لیے کانگریس کی اجازت لازمی ہوگی۔
امریکی سینیٹ میں ایران کے خلاف صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی فوجی مہم جوئی کو روکنے کے لیے ایک اہم بل منظور کر لیا گیا ہے۔اس بل کے حق میں 50 اور مخالف میں 48 ووٹ آئے۔
بل کے تحت صدر ٹرمپ کو ایران کے خلاف کسی بھی قسم کی نئی فوجی کارروائی شروع کرنے سے پہلے امریکی کانگریس سے باقاعدہ منظوری لینا ہوگی۔
اس قانون سازی سے ظاہر ہوتا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی جنگی پالیسیوں پر خود ان کی اپنی پارٹی کے اندر بھی شدید تحفظات پائے جاتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : لبنان پر اسرائیلی حملوں نے امریکہ ایران مذاکرات کو تقریباً روک دیا تھا، اسحاق ڈار
سینیٹ سے پہلے یہ بل امریکی ایوان نمائندگان سے بھی پاس ہو چکا ہے اور یہ پہلا موقع ہے کہ ایران کے حوالے سے ایسا بل دونوں ایوانوں سے منظور ہوا ہے۔
اس بل کی منظوری کے لیے 4 ریپبلکن سینیٹرز نے بھی اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا۔ تاہم اس اقدام کو زیادہ تر علامتی دیکھا جا رہا ہے کیونکہ توقع ہے کہ صدر ٹرمپ اس بل کو ویٹو کر دیں گے۔
ڈیموکریٹک لیڈر چک شومر کا کہنا ہے کہ ٹرمپ نے ایران پر زیادہ سے زیادہ دباؤ ڈالنے کا وعدہ کیا تھا، لیکن انہوں نے امریکی عوام کو صرف کنفیوژن، تباہی اور بھاری نقصان کے سوا کچھ نہیں دیا۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.










