جمعہ، 24-جولائی،2026
جمعہ 1448/02/10هـ (24-07-2026م)

لیبیا کے ساحل پر غیر قانونی تارکین وطن کی کشتی الٹنے سے 50 افراد کے ہلاک ہونے کا خدشہ

16 جولائی, 2026 10:37

مشرقی لیبیا کے ساحل کے قریب غیر قانونی طور پر یورپ جانے والے تارکین وطن کی کشتی ڈوبنے سے بچوں اور خواتین سمیت 50 افراد ہلاک یا لاپتہ ہو گئے۔

مشرقی لیبیا کے ساحل کے قریب یورپ جانے کے لیے روانہ ہونے والی ایک مسافر کشتی سمندر کی لہروں کا شکار ہو کر الٹ گئی، جس میں بچوں اور خواتین سمیت تقریبا 60 تارکین وطن سوار تھے۔

یہ افسوسناک واقعہ شمالی افریقی ملک کے ساحل پر پیش آنے والے حالیہ سمندری سانحات کا حصہ ہے۔ کوسٹ گارڈ حکام کے مطابق اس حادثے کے نتیجے میں 50 افراد ہلاک یا لاپتہ ہو چکے ہیں۔

لیبیا کے مشرقی علاقے کے کوسٹ گارڈز نے بتایا کہ یہ خوفناک حادثہ ساحلی شہر طبرق کے قریب بردعا جزیرے کے پاس پیش آیا، جہاں 10 افراد کسی نہ کسی طرح تیر کر اپنی جان بچانے میں کامیاب رہے جبکہ باقی لاپتہ افراد کی تلاش کا کام تاحال جاری ہے۔

یہ بھی پڑھیں : لیبیا کے ساحل پر تارکین وطن کی کشتی ڈوب گئی، 40 افراد ہلاک، 10 کو بچا لیا گیا

گزشتہ ماہ بھی اسی ساحل کے قریب ایک اور ڈوبنے والی کشتی کے باعث 51 تارکین وطن ہلاک ہو گئے تھے۔ سال 2011 میں نیٹو کی حمایت یافتہ بغاوت اور معمر قذافی کے خاتمے کے بعد سے لیبیا شدید بدامنی کا شکار ہے، جس کے باعث یہ ملک افریقہ اور مشرق وسطیٰ سے جنگ اور غربت سے بھاگ کر غیر قانونی طریقے سے یورپ ہجرت کرنے والوں کا سب سے بڑا گڑھ بن چکا ہے۔

انسانی اسمگلر معصوم شہریوں کو لکڑی کی چھوٹی اور غیر محفوظ کشتیوں میں سوار کر کے بحیرہ روم کے خطرناک سفر پر روانہ کرتے ہیں، جہاں ہر سال ہزاروں لوگ لقمہ اجل بن جاتے ہیں۔

عالمی ادارہ برائے مہاجرت کے مطابق رواں سال یکم جنوری سے 16 مئی تک اس راستے پر 800 سے زائد جبکہ پچھلے سال 1300 سے زائد مسافر اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔

Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔