افغانستان میں دہشتگرد گروہوں کی سرگرمیاں جاری، طالبان رجیم کی ناکامی پر امریکی محکمہ خارجہ کا دوٹوک مؤقف

افغانستان میں دہشتگرد گروہوں کی سرگرمیوں پر عالمی سطح پر تشویش برقرار ہے، جبکہ امریکی محکمہ خارجہ نے افغان طالبان رجیم کو دہشتگردی کے خاتمے کے حوالے سے کیے گئے وعدے پورے کرنے میں ناکام قرار دیا ہے۔
وائس آف امریکہ کو موصول ہونے والی امریکی محکمہ خارجہ کی آفیشل ای میل کے مطابق افغان طالبان رجیم دوحہ معاہدے میں کیے گئے انسدادِ دہشتگردی سے متعلق وعدوں پر عملدرآمد نہیں کر سکی۔
امریکی محکمہ خارجہ کا کہنا ہے کہ انتہا پسند دہشتگرد گروہ افغانستان کی سرزمین کو محفوظ پناہ گاہ اور علاقائی حملوں کے لیے استعمال کر رہے ہیں، جبکہ افغان طالبان رجیم دہشتگردی کے خطرات کو روکنے میں مکمل طور پر ناکام رہی ہے۔
امریکی وزارت خارجہ کے مطابق افغانستان میں موجود دہشتگرد تنظیموں کی سرگرمیوں نے خطے کے امن اور استحکام کو متاثر کیا ہے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب روس اور اقوام متحدہ سمیت مختلف عالمی اداروں نے افغانستان میں داعش خراسان، القاعدہ اور دیگر شدت پسند گروہوں کی موجودگی پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ داعش خراسان افغانستان کو مرکز بنا کر وسطی ایشیا تک اپنی سرگرمیوں کو وسعت دینے کی کوشش کر رہی ہے۔
روسی محکمہ خارجہ کے ڈائریکٹر پیوٹر ایلیچیف نے انسدادِ دہشتگردی اجلاس میں افغانستان سے پیدا ہونے والے سیکیورٹی خطرات پر بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں متعدد دہشتگرد تنظیمیں سرگرم ہیں۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی رپورٹ کے مطابق افغانستان میں تحریک طالبان پاکستان (فتنہ الخوارج) سمیت مختلف دہشتگرد گروہوں کی موجودگی برقرار ہے، جبکہ افغان سرزمین پر ان تنظیموں کے لیے سازگار ماحول موجود ہے۔
عالمی رپورٹس کے مطابق افغانستان میں دہشتگرد گروہوں کی سرگرمیاں خطے کے ممالک کے لیے ایک بڑا سیکیورٹی چیلنج بنی ہوئی ہیں، جبکہ افغان طالبان رجیم پر دہشتگردی کے خلاف مؤثر اقدامات نہ کرنے پر مسلسل دباؤ بڑھ رہا ہے۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.









