اسرائیل نے مغربی کنارے میں آثارِ قدیمہ کی حفاظت کی آڑ میں فلسطینی ثقافتی شناخت کو مٹانا شروع کردیا

اسرائیلی حکام نے مقبوضہ مغربی کنارے میں آثارِ قدیمہ کی حفاظت کے نام پر فلسطینیوں کی زمینوں پر قابض ہونے اور عرب ثقافتی شناخت کو مٹانے کا عمل تیز کر دیا۔
پلس 972 میگزین کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی انتظامیہ مقبوضہ مغربی کنارے میں آثارِ قدیمہ سائٹس کی تحویل کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہی ہے تاکہ فلسطینی اراضی پر قبضہ بڑھایا جا سکے اور عرب ثقافتی شناخت کو ختم کیا جا سکے۔
فروری کے مہینے میں اسرائیل کی سول ایڈمنسٹریشن نے سبسٹیا کے تاریخی اور آثارِ قدیمہ کے مقام کے گرد 2 مربع کلومیٹر سے زائد اراضی کو سرکاری تحویل میں لینے کا حکم جاری کیا، جس میں فلسطینی شہریوں کی ذاتی زرعی زمینیں بھی شامل ہیں۔ مغربی کنارے میں آثارِ قدیمہ کے نام پر کی جانے والی یہ اب تک کی سب سے بڑی اراضی ضبطگی ہے۔
فلسطینی حکام نے انتباہ جاری کیا ہے کہ اس زمین پر قبضے سے سبسٹیا قصبے کے تاریخی ورثے اور سیاحت پر مبنی مقامی معیشت کو شدید خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔ مقامی فلسطینی عملے کو ان سائٹس کی صفائی ستھرائی سے روکا جا رہا ہے اور انہیں دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : خلیجِ عدن میں بڑا جیو پولیٹیکل کھیل، امارات، امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ بیس پر کام حتمی مراحل میں داخل
اسی طرح کا ایک حکم القدس کے قریب واقع گاؤں نبی سموئیل میں بھی جاری کیا گیا، جہاں تاریخی مسجد اور ملحقہ زرعی زمین پر قبضہ کر لیا گیا۔
سبسٹیا کے میئر محمد عزام کا کہنا ہے کہ یہ سائنس کے لیے آثارِ قدیمہ کی تحقیق نہیں ہے بلکہ یہ بندوق کی نوک پر تاریخ کو بدلنے اور حقائق مسخ کرنے کی اسرائیلی کوشش ہے۔
فلسطینی حکام نے یونیسکو سے سبسٹیا کی عالمی ورثے کے طور پر فوری منظوری کا مطالبہ کیا ہے تاکہ اس کی حفاظت کی جا سکے۔
کسی بھی علاقے کو آثارِ قدیمہ کی سائٹ قرار دینے کے بعد اسرائیلی حکام فلسطینیوں کا داخلہ بند کر دیتے ہیں اور پھر وہاں یہودی بستیوں کی تعمیر و توسیع شروع کر دی جاتی ہے۔
حال ہی میں اسرائیلی پارلیمنٹ کنسیٹ نے مغربی کنارے کے تمام آثارِ قدیمہ کی دیکھ بھال اسرائیلی قوانین کے تحت ایک سویلین ادارے کو منتقل کرنے کی قانون سازی بھی کی ہے، جس سے 2 ہزار 600 سے زائد اسلامی اور عیسائی ورثے کے مقامات کا وجود خطرے میں پڑ گیا ہے۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.









