منی پور میں نسلی فسادات کی نئی لہر، مودی سرکار حالات پر قابو پانے میں ناکام

منی پور میں نسلی کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کرگئی ہے، جہاں ضلع کانگ پوکپی میں مسلح افراد کی جانب سے ایک ناگا گاؤں پر حملے اور متعدد گھروں کو نذرِ آتش کیے جانے کے بعد ریاست کی سکیورٹی صورتحال پر تشویش بڑھ گئی ہے۔
بھارتی جریدے دکن کرونیکل کے مطابق کانگ پوکپی ضلع میں منگل کی رات مسلح حملہ آوروں نے ایک ناگا گاؤں کو نشانہ بنایا۔ حملہ آوروں نے پہلے فائرنگ کی اور بعد ازاں کم از کم 9 مکانات کو آگ لگا دی۔
رپورٹ کے مطابق واقعے کے بعد منی پور کے پہاڑی علاقوں میں سکیورٹی صورتحال ایک مرتبہ پھر تشویش کا باعث بن گئی ہے، جبکہ مقامی آبادی میں خوف و ہراس پایا جاتا ہے۔
مقامی افراد نے الزام عائد کیا کہ حملے کے دوران ہنگامی اپیلیں کیے جانے کے باوجود قریب موجود سینٹرل ریزرو پولیس فورس اور ریاستی پولیس نے بروقت کارروائی نہیں کی۔
واقعے نے ریاست میں سکیورٹی انتظامات اور تشدد کی روک تھام کے لیے حکومتی اقدامات پر ایک مرتبہ پھر سوالات اٹھا دیے ہیں۔
منی پور گزشتہ کئی برسوں سے نسلی تنازعات کی لپیٹ میں ہے۔ مختلف برادریوں کے درمیان کشیدگی کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر نقل مکانی، جانی نقصان اور املاک کی تباہی کے واقعات رپورٹ ہوتے رہے ہیں۔
انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل بھی منی پور میں انسانی حقوق کی صورتحال اور تشدد کے حوالے سے تشویش کا اظہار کرچکی ہے۔
تنظیم کے مطابق ریاست میں تشدد سے متاثرہ افراد کے تحفظ، انصاف اور انسانی حقوق کی ضمانت کے لیے مؤثر اقدامات کی ضرورت ہے۔
حالیہ واقعے کے بعد ایک مرتبہ پھر مودی حکومت اور منی پور کی ریاستی انتظامیہ کی جانب سے نسلی کشیدگی پر قابو پانے کی حکمت عملی پر بحث شروع ہوگئی ہے۔
تازہ حملہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب منی پور میں طویل عرصے سے جاری نسلی کشیدگی کے مکمل خاتمے کے لیے حکومت کو مسلسل دباؤ کا سامنا ہے۔
سیاسی اور انسانی حقوق کے حلقوں کا کہنا ہے کہ مستقل امن کے لیے صرف سکیورٹی اقدامات کافی نہیں بلکہ متاثرہ برادریوں کے درمیان مذاکرات، اعتماد سازی اور قانون کی مؤثر عمل داری بھی ضروری ہے۔
حالیہ واقعات نے یہ سوال بھی اٹھا دیا ہے کہ ریاستی حکومت اور مرکزی حکومت منی پور میں عام شہریوں کے تحفظ اور دیرپا امن کے قیام کے لیے کس حد تک مؤثر اقدامات کر رہی ہیں۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.










