افغان طالبان رجیم کا سیاہ ترین دور اقتدار، اختلاف رائے اور آزاد صحافت پر مکمل بندش

افغانستان میں اگست 2021 میں طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد آزاد صحافت اور آزادیٔ اظہار کو شدید دباؤ کا سامنا ہے۔
صحافیوں کو گرفتاریوں، دھمکیوں، ہراسانی، تشدد اور سخت سینسرشپ سمیت مختلف مشکلات کا سامنا رہا ہے، جبکہ بڑی تعداد میں میڈیا ادارے بند ہوچکے ہیں یا اپنی سرگرمیاں محدود کرنے پر مجبور ہوئے ہیں۔
ہیومن رائٹس واچ کے مطابق طالبان حکام نے میڈیا پر وسیع پابندیاں عائد کیں، صحافیوں کو حراست میں لیا اور بعض کیسز میں تشدد کا بھی نشانہ بنایا۔
تنظیم کے مطابق طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد افغانستان میں سینکڑوں میڈیا ادارے بند ہوئے، جبکہ بڑی تعداد میں صحافی ملک چھوڑنے پر مجبور ہوئے۔
رپورٹ کے مطابق خواتین صحافیوں پر پابندیوں کے اثرات بھی انتہائی نمایاں رہے۔ ہیومن رائٹس واچ کے مطابق طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد افغانستان میں تقریباً 80 فیصد خواتین صحافی ملازمت سے محروم ہوئیں یا شعبہ صحافت چھوڑنے پر مجبور ہوئیں۔
صحافتی آزادی پر عائد پابندیوں میں تنقیدی رپورٹنگ کی حوصلہ شکنی، مواد کی نگرانی اور بعض رپورٹس کی اشاعت سے قبل حکام کی منظوری جیسے اقدامات شامل ہیں۔ ہیومن رائٹس واچ کے مطابق طالبان کے وضع کردہ وسیع اور مبہم میڈیا قواعد نے صحافیوں میں خود ساختہ سینسرشپ کو فروغ دیا ہے۔
اقوام متحدہ کے افغانستان مشن سے متعلق ہیومن رائٹس واچ کی رپورٹ کے مطابق طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد صحافیوں اور میڈیا کارکنوں کی گرفتاری اور حراست کے کم از کم 256 واقعات دستاویزی شکل میں سامنے آئے۔ متعدد صحافیوں کو طالبان پالیسیوں پر تنقید یا بیرون ملک قائم افغان میڈیا سے رابطوں کے الزامات پر بھی حراست میں لیا گیا۔
ہیومن رائٹس واچ کی افغانستان سے متعلق 2026 کی رپورٹ کے مطابق 2025 میں بھی طالبان نے آزادیٔ اظہار اور میڈیا پر پابندیاں برقرار رکھیں، جبکہ صحافیوں اور دیگر ناقدین کو من مانے طریقے سے حراست میں لینے اور تشدد کا سلسلہ جاری رہا۔ سیاسی پروگراموں کی براہ راست نشریات اور بعض حساس موضوعات پر رپورٹنگ بھی محدود کی گئی۔
ماہرین کے مطابق آزاد اور تنقیدی میڈیا کی محدود ہوتی گنجائش نے افغانستان میں معلومات تک عوام کی رسائی کو متاثر کیا ہے۔ دوسری جانب سوشل میڈیا اور دیگر پلیٹ فارمز پر معلومات کے پھیلاؤ نے درست اور قابلِ اعتماد معلومات کی اہمیت مزید بڑھا دی ہے۔
ہیومن رائٹس واچ کی افغانستان میں میڈیا آزادی سے متعلق حالیہ جائزوں میں بھی اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ آزاد صحافت کی موجودگی پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہے، کیونکہ سخت پابندیوں کے ماحول میں صحافیوں کے لیے حکومتی پالیسیوں، انسانی حقوق کی صورتحال اور دیگر حساس معاملات پر آزادانہ رپورٹنگ کرنا مشکل ہوگیا ہے۔
افغانستان میں طالبان کے اقتدار کے بعد میڈیا کے لیے پیدا ہونے والی صورتحال پر عالمی سطح پر مسلسل تشویش کا اظہار کیا جاتا رہا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق صحافیوں کو محفوظ ماحول فراہم کرنا، من مانی گرفتاریوں اور تشدد کا خاتمہ اور آزادیٔ اظہار کا تحفظ آزاد میڈیا کے لیے بنیادی تقاضے ہیں۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.










