امریکہ میں بھارت سے الگ وطن خالصتان کیلئے ریفرنڈم کا آغاز، ہزاروں سکھ ووٹنگ کے عمل میں شریک

امریکی ریاست انڈیانا کے شہر انڈیاناپولس میں بھارت سے الگ وطن کے لیے خالصتان ریفرنڈم کے لیے ووٹنگ شروع ہو گئی ہے، جس میں ہزاروں سکھ حصہ لے رہے ہیں۔
امریکی ریاست انڈیاناپولس میں سکھوں کے لیئے علیحدہ ریاست خالصتان کیلئے ریفرنڈم منعقد کیا گیا ہے، جس کے لیے ہزاروں سکھ ووٹنگ کے عمل میں حصہ لے رہے ہیں۔
یہ خالصتان ریفرنڈم ’سکھس فار جسٹس‘ کی عالمی مہم کا ایک اہم حصہ ہے، جس کی قیادت معروف سکھ رہنما گورپت وانت سنگھ پنوں کر رہے ہیں۔
اس ریفرنڈم میں ہزاروں کی تعداد میں سکھ ووٹرز بھارت سے اپنے الگ وطن کے لیے اپنے ووٹ کا حق استعمال کر رہے ہیں۔ ووٹنگ کے موقع پر ڈاون ٹاون انڈیاناپولس میں اس وقت خالصتانی پرچم لہرائے جا رہے ہیں اور پورا شہر ان پرچموں کی بہار پیش کر رہا ہے۔ سکھ مظاہرین نے انڈیانا میں اجتماعی طور پر بھارتی پرچم کو پھاڑ کر بھارت کے خلاف اپنی شدید نفرت کا اظہار بھی کیا۔
ریفرنڈم میں شرکت کے لیے امریکہ کے مختلف علاقوں سے ہزاروں سکھ ووٹرز انڈیاناپولس پہنچ رہے ہیں۔ مقامی سکھ تنظیموں نے ووٹرز کی سہولت کے لیے کھانے پینے کے انتظامات سمیت تمام ضروری سہولیات فراہم کرنے کی تیاریاں مکمل کر لی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : سکھس فار جسٹس کا بڑا اعلان، امن بورڈ کیلئے ایک ارب ڈالر مختص، خالصتان ریفرنڈم کی گونج
واضح رہے کہ سیاٹل کے بعد رواں سال امریکہ میں منعقد ہونے والا یہ دوسرا ریفرنڈم ہے۔ اس سے قبل کینیڈا کے شہر اوٹاوا میں 23 نومبر 2025 کو خالصتان ریفرنڈم کا انعقاد ہوا تھا، جبکہ اس سے پہلے لندن، ٹورنٹو، وینکوور، روم اور جنیوا جیسے دنیا کے بڑے شہروں میں بھی یہ ریفرنڈمز کامیابی سے منعقد ہو چکے ہیں، جہاں لاکھوں سکھوں نے خالصتان کے حق میں ووٹ ڈالے۔
شدید بھارتی مخالفت اور سفارتی دباؤ کے باوجود امریکی حکومت نے اس ریفرنڈم کے انعقاد کی اجازت دی ہے۔ یاد رہے کہ بھارت پر بیرون ملک موجود سکھ رہنماؤں کو نشانہ بنانے اور ان پر قاتلانہ حملے کرنے کے سنگین الزامات ہیں۔
بھارتی ایجنٹوں نے جون 2023 میں کینیڈا میں ممتاز سکھ رہنما ہردیپ سنگھ نجار کو قتل کر دیا تھا، جبکہ بھارت پر امریکہ، برطانیہ اور دیگر کئی ممالک میں بھی سکھ رہنماؤں کے خلاف قاتلانہ حملوں میں ملوث ہونے کے الزامات ہیں، جس سے بھارت اور دنیا بھر میں مقیم سکھوں کے درمیان کشیدگی میں انتہائی اضافہ ہو رہا ہے۔
سکھ رہنما گورپت وانت سنگھ پنوں نے بھارتی مؤقف پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ اگر بھارت یہ کہتا ہے کہ سکھ ریفرنڈم کا کوئی اثر نہیں ہوتا، تو پھر وہ بیرون ملک سکھ رہنماؤں کو قتل کرنے کے لیے ڈیتھ اسکواڈز کیوں بھیجتا ہے؟
انہوں نے مزید کہا کہ مجھے اپنی موت سے کوئی خوف نہیں ہے، اور مجھے کامل یقین ہے کہ پنجاب کی تاریخ اور مزاحمت کی وجہ سے بھارت کا نقشہ آئندہ 10 سے 15 سال میں مکمل طور پر بدل جائے گا۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












