نیٹو کی آبنائے ہرمز میں آزادانہ آمدورفت یقینی بنانے کیلئے اقدامات پر مشاورت

نیٹو نے آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی آزادانہ اور محفوظ آمدورفت یقینی بنانے کے لیے مختلف رکن ممالک کے درمیان ممکنہ تعاون پر غور شروع کردیا ہے۔
نیٹو کی جانب سے جاری بیان کے مطابق اتحاد کے اعلیٰ کمانڈر نے متعدد رکن ممالک کے نمائندوں سے بات چیت کی، جبکہ اس سلسلے میں ایک اجلاس بھی منعقد کیا گیا جس میں آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کے تحفظ کے لیے ممکنہ اقدامات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
نیٹو کے سپریم الائیڈ کمانڈر جنرل الیکسس گرینکووچ کے ترجمان کے مطابق اجلاس میں ان ممالک کے سربراہانِ دفاع شریک ہوئے جو آبنائے ہرمز میں آزادانہ آمدورفت کے تحفظ کے لیے ممکنہ طور پر کردار ادا کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔
تاہم ترجمان نے واضح کیا کہ مجوزہ تعاون کو باقاعدہ نیٹو مشن قرار نہیں دیا جائے گا۔
ترجمان کے مطابق نیٹو نے رکن ممالک کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرنے اور ان کی فوجی صلاحیتوں کا جائزہ لینے کی اپنی صلاحیت کے باعث رابطہ کاری میں کردار ادا کیا ہے۔
نیٹو کے رکن ممالک اب تک ایران کے ساتھ جاری تنازع میں اتحاد کی براہِ راست شمولیت سے گریز کرتے رہے ہیں۔ اس کے بجائے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور بحری جہازوں کی محفوظ آمدورفت یقینی بنانے کے لیے ایسے منصوبوں پر بات چیت کی جارہی ہے جو نیٹو کے باقاعدہ دائرہ کار سے باہر ہوں گے۔
رپورٹ کے مطابق فرانس اور برطانیہ تقریباً 12 ممالک پر مشتمل ممکنہ اتحاد تشکیل دینے کی کوششوں میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
مجوزہ اتحاد کا مقصد خطے میں کشیدگی کم ہونے یا تنازع کے خاتمے کے بعد آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں کی محفوظ اور آزادانہ آمدورفت کو یقینی بنانا ہے۔
آبنائے ہرمز عالمی تجارت کے لیے انتہائی اہم بحری گزرگاہ تصور کی جاتی ہے۔ فروری میں ایران کے ساتھ لڑائی شروع ہونے سے قبل دنیا بھر میں تجارت کیے جانے والے مجموعی تیل کا تقریباً پانچواں حصہ اسی راستے سے گزرتا تھا۔
اسی اہمیت کے باعث آبنائے ہرمز میں کسی بھی طویل رکاوٹ کے عالمی توانائی کی فراہمی، تیل کی قیمتوں اور بین الاقوامی تجارت پر نمایاں اثرات مرتب ہونے کا خدشہ رہتا ہے۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.









