اتوار، 14-جون،2026
اتوار 1447/12/28هـ (14-06-2026م)

سال 2020 میں ہونے والے دہشت گردی کے بڑے واقعات

20 ستمبر, 2023 14:30

سال2020 پوری دنیا کورونا کی زد میں رہی لیکن پرتشدد حملوں کے ذریعے دہشت پھیلانے کا عمل بھی جاری رہا۔

رواں سال پوری دنیا کورونا کی زد میں رہی،، جس کی وجہ سےمعمولات زندگی متاثر ہوئے اور کاروباری مصروفیات معطل رہی لیکن پرتشدد حملوں کے ذریعے دہشت پھیلانے کا عمل بدستور جاری رہا۔

 

کوئٹہ میں خود کش حملہ

10 جنوری کو پاکستان کے شہر کوئٹہ کے علاقے سیٹلائٹ ٹاؤن کی مسجد و مدرسہ میں دھماکے سے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس (ڈی ایس پی) اور مسجد امام سمیت 15 افراد جاں بحق اور 19 زخمی ہوگئے تھے۔

یمن میں مسجد پر ڈرون حملہ

جنوری کے تیسرے ہفتے میں فوجی تربیتی کیمپ کی ایک مسجد کو شام کی نماز کے دوران ڈرون اور میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا تھا جب درجنوں افراد نماز کی ادائیگی میں مصروف تھے۔اس حملے میں 111 یمنی فوجی اور 5 شہری جاں بحق اور 148 زخمی ہوگئے تھے۔اس حملے کا الزام حوثیوں پر عائد کیا گیا تھا۔

 

لندن میں چاقو سے حملہ

 

2 فروری کو لندن کے جنوبی علاقے اسٹریتھم میں ایک شخص نے 3 افراد پر چاقو سے حملہ کیا تھا جس میں ایک شخص شدید زخمی ہوگیا تھا۔20 سالہ نوجوان سودیش امن نے جعلی خود کش جیکٹ پہنی ہوئی تھی جسے لندن کی مصروف شاہراہ ساؤتھ اسٹریٹ پر 3 افراد کو چاقو سے زخمی کرنے پر پولیس نے گولی مار کر ہلاک کردیا تھا۔

پانسی چرچ پر حملہ

فروری میں ہی برکینا فاسو کے صوبہ یاگا میں واقع پانسی گاؤں پر 20 سے 30 بندوق برداروں کے ایک گروپ نے حملہ کیا تھا۔حملے میں کیٹچسٹ سمیت 24 افراد ہلاک اور 18 زخمی ہوگئے تھے۔

 

جرمنی کے شہر ہناؤ میں حملہ

 

19 فروری کو جرمنی کے شہر ہناؤ میں ایک انتہا پسند نظریات رکھنے والے شخص نے آدھی رات کو دو نائٹ کلبز میں حملے کیے تھے۔اس حملے میں 5 افراد ہلاک ہوئے اور پھر اس شخص نے اپارٹمنٹ میں اپنی والدہ کو قتل کرنے کے بعد خودکشی کرلی تھی۔

 

کابل میں حملہ

6 مارچ کو کابل میں ہزارہ رہنما عبدالعلی مزاری کی یاد میں منعقدہ تقریب میں مسلح افراد نے حملہ کیا تھا۔
تقریب میں متعدد اعلیٰ سطح کے سیاست دانوں نے شرکت کی تھی جس میں کم از کم 32 افراد ہلاک اور 60 سے زیادہ زخمی ہوگئے تھے۔پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے 2 حملہ آوروں کو ہلاک کردیا تھا۔حملے کی ذمہ داری داعش (خراسان) نے قبول کی تھی۔

 

مالی میں فوجی اڈے پر حملہ

 

6اپریل کو بامبا کے شہر مالی میں موٹر سائیکلوں پر سوار بندوق بردار افراد نے فوجی اڈے پر حملہ کیا تھا۔اس حملے میں 25 فوجی ہلاک اور 6 زخمی ہوئے جبکہ فوجیوں نے 12 حملہ آوروں کو ہلاک کردیا تھا۔
جماعت النصر الاسلام والمسلمین نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔

 

افغانستان میں گردوارہ پر حملہ

 

7 اپریل کو افغانستان کے دارالحکومت کابل میں داعش کے جنگجو نے سکھ گردوارہ پر حملہ کیا تھا۔
حملے کے نتیجے میں 25 افراد ہلاک اور 8 زخمی ہوگئے تھے۔

 

شام میں ایندھن کے ٹینکر سے ہونے والی تباہی

28 اپریل کو جنگ زدہ ملک شام کے شہر آفرین میں مارکیٹ اور سرکاری وزارت کے قریب موجود ایک ایندھن سے بھرا ہوا ٹینکر دستی بم کے نتیجے میں پھٹ گیا تھا۔دھماکے میں کم از کم 53 افراد ہلاک ہوئے تھے جن میں 11 بچے اور 6 ترکی سے وابستہ جنگجو شامل تھے۔

 

کابل میں واقع ہسپتال کے زچگی وارڈ پر حملہ

12 مئی کو افغانستان کے شہر کابل میں ہزارہ کے نواحی علاقے دشت برچی کے ایک ہسپتال کے زچگی وارڈ میں مسلح افراد نے حملہ کر کے دو نوزائیدہ بچوں اور کئی نرسوں سمیت 24 شہریوں کو ہلاک کردیا تھا۔
تینوں حملہ آور 5 گھنٹے تک جاری رہنے والی فائرنگ کے تبادلے کے بعد مارے گئے۔

 

 

پاکستان کی اسٹاک ایکسچینج پر حملہ

 

29 جون کو پاکستان کے معاشی حب قرار دیئے جانے والے شہر کراچی میں دہشت گردوں نے دستی بموں اور خودکار رائفلوں کے ساتھ پاکستان اسٹاک ایکسچینج کی عمارت پر حملہ کیا تھا۔
حملے میںسیکیورٹی گارڈز اور ایک پولیس سب انسپکٹر شہید جبکہ 7 افراد زخمی ہوگئے تھے۔
پولیس کی بروقت کارروائی میں چاروں حملہ آور ہلاک ہوگئے تھے، بعد ازاں بلوچستان لبریشن آرمی نے حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔

 

فلپائن میں خاتون بمبار کا حملہ

 

24 اگست کو فلپائن کے شہر جولو میں پیراڈائز فوڈ پلازہ کے باہر ایک فوجی ٹرک کے قریب موٹرسائیکل بم پھٹا تھا جس کے نتیجے میں 6 فوجی، 6 شہری اور ایک پولیس افسر ہلاک ہوگیا تھا۔
اس واقعے کے ایک گھنٹے کے بعد ایک خاتون خودکش بمبار نے فلپائن کے ڈیولپمنٹ بینک کی شاخ کے سامنے خود کو دھماکے سے اڑا دیا تھا، جس میں ایک فوجی ہلاک ہوگیا تھا۔

 

خیبر پختونخواہ میں مدرسے پر حملہ

 

27 اکتوبر کو خیبرپختونخواں کے شہر پشاور کے ایک مدرسے میں تعلیم کے دوران دھماکے سے 8 افراد جاں بحق ہوگئے تھے۔یہ دھماکا مقامی وقت کے مطابق صبح ساڑھے آٹھ بجے ہوا۔
دھماکے میں جاں بحق ہونے والوں میں 4 طالبعلم بھی تھے جن کی عمریں 15 سے 25 سال کے درمیان تھیں۔

 

افغانستان میں کابل یونیورسٹی پر حملہ

 

2 نومبر کو کابل یونیورسٹی کے کیمپس میں عسکریت پسندوں نے فائرنگ کی تھی جس کے نتیجے میں 19 طلبہ ہلاک اور 22 دیگر زخمی ہوگئے تھے۔
علاوہ ازیں اس حملے کے دوران مسلح افراد کا مقامی سیکیورٹی فورسز کے ساتھ فائرنگ کا تبادلہ بھی ہوا تھا جبکہ لڑائی میں 3 دہشت گرد ہلاک ہوگئے تھے۔
داعش (صوبہ خراسان) نے اس کی ذمہ داری قبول کی تھی۔

آسٹریا میں ویانا میں حملہ

3 نومبر کو آسٹریا کے دارالحکومت ویانا کے وسطی علاقے میں مسلح افراد نے 6 مختلف مقامات پر فائرنگ کی تھی جس کے نتیجے میں ایک خاتون سمیت 4 افراد ہلاک اور 17 زخمی ہوگئے تھے۔
رپورٹس میں بتایا گیا تھا کہ 2 میں سے ایک مسلح حملہ آور کو پولیس نے گولی مار کر ہلاک کردیا تھا جبکہ ایک فرار ہوگیا تھا۔

 

نائیجیریا میں ہونے والے حملے میں 110 شہری قتل

نائیجیریا کے شمال مشرق میں کھیت کے مزدوروں پر بوکو حرام کے دہشت گردوں کی جانب سے کیے گئے حملے میں 110 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔
بوکو حرام کے جنگجوؤں کی جانب سے کیے گئے حملے میں ابتدائی طور پر 43 افراد کی ہلاکت کی اطلاع ملی اور پھر مزید 70 افراد کے قتل کی تصدیق ہوئی تھی۔

 

 

 

Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔