حملے سے ایک روز پہلے تک آدھا پاکستان ایرانی تھا

ایک ایسے وقت میں جب مسلم دنیا کی نظریں غزہ جنگ پر مرکوز ہیں، ایران کا پاکستان کی علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی کا فیصلہ نہ صرف غلط بلکہ انتہائی مایوس کن ہے۔ اس کارروائی سے کوئی فوجی فائدہ حاصل نہ ہوا لیکن ایک بڑا بحران ضرور پیدا ہو گیا۔ غزہ جنگ پر ایران نے پاکستانیوں کے دل جیتے مگر یہ سرمایہ راتوں رات ضائع کردیا۔
فرائیڈے ٹائمز میں معروف صحافی اعجاز حیدر لکھتے ہیں صرف ایک دن پہلے تک پاکستان میں آدھی اکثریت ایرانی تھی، غزہ جنگ کے حوالے سے ایران کی جرات و ہمت اسکی بنیادی وجوہات میں سے ایک ہے، حماس کی کھلی حمایت، یمن میں حوثی اور لبنان میں حزب اللہ کی حمایت، مظلوم فلسطینوں کے حوالے سے ایران کا کھرا موقف، سچ ہے کہ ایران نے پاکستانیوں کے دل جیت لیے تھے مگر اس کے بعد پنجگور میں جیش العدل کے ٹھکانوں پر حملے نے سب کچھ بدل ڈالا ۔
اس وقت جب مسلم اکثریتی ریاستوں کے ساتھ ساتھ دنیا کی دیگر باضمیر ریاستیں اور سماجی گروہ اسرائیل کی طرف سے اس کی نسل کشی کی جنگ میں کیے جانے والے مظالم کے جرائم پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں، فلسطینیوں کی حمایت کرنے والے ہر فرد کو صف بندی کرنی چاہیے۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو پاکستان کے خلاف ایران کی جارحیت کا غیر ذمہ دارانہ اقدام اس سے بڑی ناکامی نہیں ہو سکتا تھا۔
دوسرا پہلو دو طرفہ ہے، ایران اور پاکستان کو کئی سالوں سے بلوچستان/سیستان میں پرتشدد غیر ریاستی عناصر کے ساتھ مسائل کا بھی سامنا ہے۔ مساوی حقوق کا مطالبہ کرنے والے سنی گروپوں کی طرف سے ایران کی سکیورٹی فورسز پر حملے ہوتے رہے ہیں اور ایران کی طرف سے اس کی سنی اقلیت پر ظلم و ستم کا سلسلہ جاری ہے۔ پاکستان2006 سے بلوچ دہشت گرد گروہوں کی طرف سے دہشت گردی کی منظم مہم کا سامنا کر رہا ہے۔ یہ گروہ ایران اور جنوبی افغانستان سے پاکستان میں داخل ہوتے ہیں اور بلوچستان میں تشدد کی کارروائیاں کرتے ہیں۔
گزشتہ برسوں کے دوران اور بڑھتی ہوئی کشیدگی کی وجہ سے پاکستان اور ایران نے اس سنگین مسئلے سے نمٹنے کے لیے مواصلاتی چینلز اور سرحدی تعاون کا طریقہ کار تیار کیا ہے۔ اس دوطرفہ مسئلے سے نمٹنے کے لیے انسداد دہشت گردی کے میکانزم موجود ہیں۔ ان انتظامات کے تحت اگر ایران کو بلوچستان میں جیش العدل کے عناصر کی موجودگی کی اطلاع تھی تو اسے پاکستان کو آگاہ کرنا چاہیے تھا۔ اس کے بجائے ایران نے یکطرفہ کارروائی کا انتخاب کیا۔ مگر ایسی کارروائی کرتے ہوئے ایران نے واضح طور پر پاکستان کے ردعمل کا غلط اندازہ لگایا۔ کیا شاید یہ سمجھا گیاا کہ پاکستان جواب نہیں دے گا؟ اگر ایسا ہے تو تہران کا شاید یہ خیال ہے کہ اس کے اسٹریٹیجک مقاصد پاکستان سے زیادہ مقدس ہیں۔ یہ سوچ جادو تو ہو سکتی ہے کسی ملک کی پالیسی نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ایران اتنی طاقت اور فوج نہیں رکھتا کہ پاکستان جیسے جوہری طاقت کے حامل ملک کا مقابلہ کر سکے، یروشلم پوسٹ
اگر اس نے اندازہ لگایا کہ پاکستان جواب دے گا تو اس نے خطرناک کھیل کھیلا ہے۔ ایران کی کارروائی کے بعد پاکستان جواب دینے پر مجبور ہے۔ پاکستان نے جوابی کارروائی سے پہلے بعض سفارتی اقدامات کیے مگر ایران کی طرف سے کسی پشیمانی کی عدم موجودگی میں جواب دینا بھی ضروری تھا۔ پاکستان کو ایرانی سرزمین پر بلوچ دہشت گرد گروپوں کی موجودگی کا علم ہے۔ اس نے ایرانی بلوچستان میں سراوان میں ان کے ایک اڈے کو نشانہ بنانے کا فیصلہ کیا۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ اس واقعے سے صرف ایک روز قبل پاکستان اور ایران کی بحریہ نے آبنائے ہرمز میں ایک روزہ مشترکہ بحری مشقیں کی تھیں۔ تہران ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق ایرانی اور پاکستانی بحری افواج کے نوجوان افسران اور کیڈٹس نے مشق میں حصہ لیا۔ گزشتہ سال جون میں اسلام آباد میں ملاقاتوں کے دوران ایرانی بحریہ کے کمانڈر ریئر ایڈمرل شہرام ایرانی نے پاکستان کے چیف آف نیول اسٹاف محمد امجد خان نیازی اور چیف آف ایئر اسٹاف ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سے ملاقات کی۔ ایرانی وفد نے میری ٹائم سیکیورٹی کو یقینی بنانے میں پاک بحریہ کی کوششوں کے بارے میں بریفنگ حاصل کی اور دوطرفہ اور کثیر جہتی تعاون کے منصوبوں پر تبادلہ خیال کیا۔
یہ بھی دلچسپ ہے کہ ایران کی جارحیت سے چند گھنٹے قبل پاکستان کے نگراں وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ اور ایران کے وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان نے ڈیووس میں ملاقات کی جس میں دو طرفہ تعاون کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اگر وزیر امیر عبداللہ کو معلوم تھا کہ ایران اسٹرائیک کی تیاری کر رہا ہے جب وہ وزیر اعظم کاکڑ کے ساتھ خوشگوار ملاقات کر رہے تھے، تو یہ حقیقت ایران کی کارروائی کو اور بھی سنگین اور مکروہ بنا دیتی ہے۔ ایران کی بدقسمت جارحیت کے بارے میں ایک حیرت یہ بھی ہے کہ تہران پہلے ہی مقبوضہ فلسطین میں تنازعات اور ایران کے دونوں علاقائی پراکسیز حزب اللہ اور حوثیوں کے ساتھ روابط اور تعاون پر عالمی نشانے پر ہے۔ اس کے باوجود ایسی کارروائی کرنا جو مشرق میں پاکستان کے ساتھ دشمنی کا محاذ کھول سکتا ہے، کوئی منطقی، تزویراتی معنی نہیں رکھتا۔
پاکستان کا ردعمل نپا تلا، متناسب اور مضبوط ہے۔ ایران پہلے ہی اعتراف کر چکا ہے کہ سراوان میں پاکستان کے حملوں میں ہلاک ہونے والے افراد غیر ملکی تھے۔ پاکستان کشیدگی نہیں چاہتا، پاکستانی وزارت خارجہ نے واضح کیا پاکستان اسلامی جمہوریہ ایران کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا مکمل احترام کرتا ہے۔ آج کی کارروائی کا واحد مقصد پاکستان کی اپنی سلامتی اور قومی مفاد کا حصول تھا جس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔
پاکستان کی کارروائی کا ایک اور اہم پہلو بھارت کو خبردار کرنا بھی ہے۔ بھارت ماضی میں بھی پاکستان کے خلاف جارحیت کرتا رہا ہے، انڈیا ایک بار پھر انتخابات کی طرف جا رہا ہے اور وزیر اعظم نریندر مودی کی ہندوتوا، دائیں بازو کی بی جے پی حکومت ملکی سیاسی فائدے کے لیے بحران پیدا کرنے کا قوی امکان ہے۔ اس لیے ایران کے ساتھ ہونے والے اس واقعے کو بھارت کے خلاف پاکستان کی ڈیٹرنس کے تناظر میں بھی دیکھا جانا چاہیے۔
پہلا راؤنڈ اوور، بال اب ایران کے کورٹ یں ہے، امید کی جا سکتی ہے کہ معاملہ آگے نہیں بڑھے گا مگر پاکستان کو چوکنا رہنا ہوگا۔ پاکستان کو اپنے زمینی فضائی دفاع کے ساتھ ساتھ اپنے فضائی پلیٹ فارمز کو بھی ایرانی میزائلوں یا کسی دوسرے پلیٹ فارم کو روکنے کے لیے تیار کرنے کی ضرورت ہوگی۔ تکنیکی طور پر دیکھا جائے تو ایران کو زیادہ تکلیف اٹھانی پڑے گی اگر وہ اس کارروائی کو آگے بڑھانا چاہتا ہے تو۔
دنیا کی موجودہ صورتحال میں کشیدگی نہ ایران اور نہ ہی پاکستان کے مفاد میں ہے۔ امید ہے سفارتکاری اس مسئلے کا حل ڈھونڈ لے گی۔
Catch all the پاکستان News, تجزیہ و بلاگز News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.










