پاکستان ایران کشیدگی، تاریخ کا چونکا دینے والا موڑ

بلوچستان پر ایران کا بلااشعال حملہ اور پاکستان کی جوابی کارروائی کے بعد خطے میں کشیدگی ایک چونکا دینے والا موڑ ہے۔ دونوں ریاستوں کو سنگین معاملے سے احتیاط کیساتھ نمٹنا چاہیے، عسکریت پسندی سے جڑے اس معاملے پر دونوں ریاستوں کے درمیان بات ہونی چاہیئے، اس سنگین موڑ دونوں فریق سمجھداری سے معاملات کو سنبھال سکتے ہیں۔
پاکستان اور ایران نہ صرف برادر اسلامی ممالک ہیں بلکہ آزادی کے بعد سے خوشگوار تعلقات رکھتے ہیں۔ 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد ایران کے نظریاتی رخ اختیار کرنے کے بعد بھی، پاکستان کی امریکی اور سعودی کیمپ سے قربت کے باوجود بھی، معاملات کبھی خراب نہیں ہوئے۔ اگرچہ موجودہ بحران درحقیقت ایک سنگین بحران ہے، دونوں ممالک آمنے سامنے ہیں مگر معاملات کو میز پر بیٹھ کر کشیدگی کو کم کیا جا سکتا ہے۔
منگل کو نگران وزیر اعظم اور ایرانی وزیر خارجہ ڈیووس میں خوشگوار ماحول میں ملاقات کر رہے تھے، جب کہ دونوں بحری افواج آبنائے ہرمز میں مشترکہ مشقیں کر رہی تھیں۔ یہ توقع کسی کو نہ تھی اس دن کے بعد، تہران ایک غیر معمولی اقدام میں پاکستانی سرزمین پر حملہ کرے گا، اور دعویٰ کرے گا کہ اس نے ایران مخالف دہشت گردوں کو نشانہ بنایا ہے، جس میں دو بچے مارے گئے۔ جوابی کارروائی کرتے ہوئے پاکستان نے جمعرات کو ایرانی سرزمین پر حملہ کیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق سراوان کے قریب آپریشن مرگ بر سماچار میں بلوچ علیحدگی پسند تنظیموں سے تعلق رکھنے والے دہشت گردوں کو بے اثر کر دیا گیا۔
ایران کا دعویٰ ہے کہ پاکستانی کارروائی میں "غیر ملکی شہری” مارے گئے۔ فوری ضرورت اس بات کی ہے کہ کشیدگی کو کم کیا جائے، اور تنازعہ کو مزید بڑھنے سے روکا جائے۔ اگرچہ پنجگور میں ایران کی کارروائی انتہائی قابل مذمت تھی، لیکن دونوں ریاستوں کو اس کے نتیجے میں احتیاط کے ساتھ نمٹنا چاہیے۔
کشیدگی کو دور کرنا آسان ہے کیونکہ یہ کسی بھی ملک کے مفاد میں نہیں ہوگا۔ عسکریت پسندی کے مشترکہ مسئلے کے بارے میں دونوں دارالحکومتوں کے درمیان کھل کر بات چیت ہونی چاہیے۔
پاکستان کا کہنا ہے کہ بلوچ علیحدگی پسندوں کو ایران میں پناہ ملتی ہے، جب کہ تہران کا دعویٰ ہے کہ جیش العدل جیسے بلوچ انتہا پسند گروپ سرحد کے اس جانب سے کام کرتے ہیں۔ برسوں کے دوران، دونوں ریاستوں نے سرحدی جھڑپوں اور دہشت گردی کی کارروائیوں میں سیکورٹی اہلکاروں کے ساتھ ساتھ عام شہریوں کی جانیں بھی گئیں ہیں۔ اس وقت ایک مضبوط میکانزم پر بات کرنے کی ضرورت ہے تاکہ کسی ایک ملک کی سرزمین کو دوسرے کے خلاف استعمال ہونے سے روکا جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں: حملے سے ایک روز پہلے تک آدھا پاکستان ایرانی تھا
ظاہر ہے اعتماد بحال کرنے میں وقت لگے گا، لیکن کوئی بھی ریاست دشمنی کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ پاکستان کے لیے، دو سرحدیں، ہندوستان اور افغانستان کشیدہ ہیں۔ اس لیے ایران کی سرحد پرکشیدہ حالات مفاد میں نہیں، پاکستان کو ایرانی قیادت سے ضمانتیں طلب کرنی چاہیئں کہ پاکستان کی علاقاتی خودمختاری کی دوبارہ خلاف ورزی نہیں کی جائیگی۔
صرف اتنا نہیں بلکہ سفارتی اور سیکورٹی حکام کو متشدد غیر ریاستی عناصر کی چالوں کو ناکام بنانے کے لیے باقاعدگی سے کام کرنے کی ضرورت ہے۔
مشترکہ دوست، بنیادی طور پر چین اور ترکی، نے ثالثی کے لیے اپنی خدمات پیش کی ہیں۔ تہران اور اسلام آباد کو ان پیشکشوں پر مثبت غور کرنا چاہیے۔ دونوں ریاستوں میں اعلیٰ سطح پر دو طرفہ روابط قائم کرنے کی ضرورت ہے تاکہ اعتماد پیدا کیا جا سکے اور حالات کو بگڑنے سے روکا جا سکے۔ مہلک قوتیں اس بحران کو بڑھتا دیکھنا چاہیں گی۔ دونوں دارالحکومتوں کے رہنماؤں کو یقینی بنانا چاہیے کہ ہرگز ایسا نہ ہو۔
Catch all the پاکستان News, تجزیہ و بلاگز News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.










