جمعہ، 22-مئی،2026
جمعہ 1447/12/05هـ (22-05-2026م)

الیکشن 2024 : نئی حکومت کے لیےدس بڑے چیلنجز کیا ہونگے ؟

20 جنوری, 2024 14:57

اگلے ماہ یعنی فروری میں الیکشن ہونے جارہے ہیں  جس کے بعد نئی حکومت اقتدار میں آئے گی، لیکن اقتدار میں آنے والوں کے لئے حکومت چلانا آسان نہیں ہوگا ، جانئے نئی حکومت کو کن 10 بڑے چیلنجز کا سامنا ہوگا۔

 

1۔خوفناک معاشی بدحالی

نو منتخب حکومت کیلئے سب سے بڑا چیلنج ملکی معیشت ہو گی، ڈالر کی قیمت، آئی ایم ایف قرضہ اور شرائط، گردشی قرضہ، عالمی معاشی اداروں کی 2024 میں شرح نمو 2 اعشاریہ 5 فیصد پیشگوئی پوری ہو سکے گی؟
نگراں حکومت نے ٹیکس بیس بڑھانے کیلئے کوئی قدم نہیں اٹھایا، آئی ایم ایف شرائط کے تحت کیا نئی حکومت یہ کڑوا گھونٹ عوام کو پلائے گی؟
آج مصنوعی معاشی ترقی کا ڈھنڈورا پیٹا جا رہا ہے،اورنئی حکومت کیلئے یہ ڈھنڈورا بھی بڑا چیلنج ہو گا۔
کیا نئی حکومت ٹھوس معاشی اصلاحات کر پائیگی؟ کیا نو منتخب حکومت شاہانہ خرچ، گردشی قرضہ، عالمی قرضہ، کرپشن سمیت فنانشل منیجمنٹ کی صلاحیت رکھتی ہو گی؟

 

2 ۔ مہنگائی

عوام مہنگائی کے بوجھ تلے سسک رہے ہیں، آٹا، دال، چینی، چاول، سبزی، گوشت، تیل، گھی سمیت ضروریات زندگی متوسط طبقے کی پہنچ سے نکل چکی ہیں، مہنگائی کی شرح 38 جانے کے بعد اب 29 فیصد کی خوفناک سطح پر ہے، نئی حکومت کیلئے کمر توڑ مہنگائی ایک کڑا چیلنج ثابت ہو گی۔
40 فیصد آبادی غذائی قلت کا شکار ہے، پاکستان اسٹیٹسٹکس بیورو کے مطابق گزشتہ سال کھانے پینے کی اشیا پر مہنگائی کی شرح 48 اعشاریہ 65 فیصد تک رہی ہے،گزشتہ ایک سال میں غربت کی سطح 34 اعشاریہ 2 فیصد سے 39 اعشاریہ 4 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔

 

3 ۔ بیروزگاری

اچھی بات یہ ہے کہ آبادی میں نوجوانوں کی شرح 64 فیصد ہے مگر المیہ یہ کہ بیروزگاری کی 8 اعشاریہ 5 فیصد، ہر سال 40 لاکھ نوجوان روزگار کیلئے تیار ہوتے ہیں گویا ہر سال کم از کم 10 لاکھ افراد کیلئے روزگار کے مواقع پیدا کرنا ہونگے۔
اس وقت صورتحال یہ ہے کہ 2 کروڑ بچے اسکول نہیں جاتے، 40 فیصد آبادی غیر تعلیم یافتہ ہے، افرادی قوت کیلئے ایسی تعلیمی سہولیات میسر نہیں جن کے ذریعے وہ جدید ٹیکنالوجی سے فیضیاب ہو کر عالمی معیشت کا حصہ بن سکیں۔
آبادی کی بڑھتی شرح بھی خوفناک مسئلہ ہے، پاکستان 2 اعشاریہ 5 فیصد کیساتھ شرح پیدائش کے ساتھ دنیا کا پانچواں ملک ہے۔

 

4 ۔ دہشتگردی

پاکستان ایک بار پھر دہشتگردی کا شکار ہوتا نظر آتا ہے، 2023 میں 664 واقعات رپورٹ ہوئے جو 2022 سے 67 فیصد زیادہ ہیں۔
دہشتگردی کے بیشتر واقعات خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں ہوئے،واضح ہے کہ دہشتگرد تنظیموں کا نیٹ ورک منظم ہو چکا ہے اور مستقبل میں یہ خطرہ نئی حکومت کیلئے بھیانک ثابت ہو سکتا ہے۔
تیزی کیساتھ بڑھتے دہشتگردی کے واقعات کو روکنے کیلئے کوئی ٹھوس اقدامات یا پالیسی نظر نہیں آتی، آنیوالے وقت میں پاکستان کیلئے امن عامہ سب سے بڑا چیلنج ثابت ہو گا۔

 

5۔ عالمی تعلقات اور بیرونی خطرات

بھارتی سرحد کے بعد اب افغان سرحد بھی غیر محفوظ ہو چکی ہے، ایران سے تعلقات رسمی نوعیت کے ہیں جبکہ چین، پاکستان کی جانب سے مایوسی کا شکار نظر آتا ہے،امریکہ کیلئے اب پاکستان کی کوئی اہمیت نہیں جبکہ یورپی ممالک بھی پاکستان کو اہم نہیں جانتے۔
عرب ممالک کی جانب سے سرمایہ کاری کی خبریں تو آ رہی ہیں مگر سچ یہ ہے کہ امریکہ، یورپ اور عرب ممالک کوئی بھی بھارت کو ناراض کرنے کی سکت نہیں رکھتا، تاریخی حقیقت یہ ہے کہ ہماری خارجہ پالیسی اہڈہاک بنیادوں پر بنتی اور بگڑتی رہی ہے۔
آمرانہ دور کی بات تو چھوڑیں، جمہوری ادوار میں بھی خارجہ معاملات میں کوئی تسلسل نظر نہیں آتا، نئی حکومت کیلئے عالمی روابط اور اعتماد حاصل کیے بغیر پاکستان سفارتی تنہائی سے باہر نہیں آ سکتا۔

 

6۔اسٹیبلشمنٹ

نئی حکومت کیلئے اسٹیبلشمنٹ کو ساتھ رکھنا مجبوری نہیں بلکہ کڑوا سچ بن چکا ہے۔سیاستدان بکھرے جبکہ اسٹیبلشمنٹ منظم اور متحدہے،بڑا سوال یہ ہے کہ نومنتخب حکومت کب تک اور کتنا اس چیلنج پر پورا اترتی ہے۔
حقیقت یہ بھی ہے کہ ماضی قریب میں تین حکومتیں تین یا ساڑھے تین سال میں اپنے وزرا اعظم کھو چکی ہیں۔
خارجہ معاملات سمیت کیا نئی حکومت اپنی پالیسیاں آزادانہ بنا سکے گی؟
خارجہ کے بعد اب معاشی معاملات بھی اسٹیبلشمنٹ کی میز سے ہو کر گزرتے ہیں، زراعت، لائیو اسٹاک، کانکنی، آئی ٹی اور دفاعی پیداوار کیلئے مشترکہ محکمہ بھی کام کر رہا ہے۔
سچ تو یہ ہے کہ نئی حکومت کو شب و روز اسٹیبلشمنٹ کے پل صراط سے گزرنا سب سے بڑا اندرونی چیلنج ثابت ہو گا۔

 

7۔ نیا سیاسی بحرا ن

ہم جانتے ہیں اس وقت پورا ملک خوفناک گہری سیاسی تقسیم کا شکار ہے، ممکنہ طور پر نئی حکومت اتحادی جماعتوں کی مدد سے بنائی جائیگی، مقابلہ پی ڈی ایم اور تحریک انصاف کے درمیان ہے۔
تحریک انصاف کو الیکشن میں حصہ لینے دیا جائے یا نہ لینے دیا جائے، معاشری تقسیم پر زیادہ فرق نہیں پڑتا چونکہ تحریک انصاف عوام پر یہ تاثر ثابت کرنے میں کامیاب رہی ہے کہ ان کیساتھ نا انصافی ہو رہی ہے۔
حکومت کون بناتا ہے کون اپوزیشن میں ہوتا ہے، نتائج جو بھی ہوں یہ معاملہ ایک بڑے سیاسی بحران کو جنم دیگا کیونکہ سب کا اپنا اپنا سچ ہے ایسے میں سیاسی تقسیم مزید خوفناک ہو کر بننے والی حکومت کیلئے ڈرائونا خواب ثابت ہو گی۔
تاریخی حقیقت یہ بھی ہے کہ مخلوط حکومت اتنی مضبوط نہیں ہوتی کہ کسی سنگین بحران کا مقابلہ کر سکے۔

 

8۔ کرپشن

اس وقت پاکستان کرپشن انڈیکس کے 180 ممالک میں 140 نمبر پرموجود ہے، کرپشن پرسیپشن سروے 2023 کے مطابق 2012 کے بعد یہ پاکستان کی بدترین رینکنگ ہے۔
2018 میں پاکستان کا رینک 117 تھا جو کہ 2021 میں 140 تک پہنچ گیا، گویا گزشتہ پانچ سال میں کرپشن میں خوفناک اضافہ ہوا ہے،پولیس میں کرپشن کی شرح 30، ٹینڈر اور کنٹریکٹس کے حوالے سے 16 اور عدلیہ کے حوالے سے 13 فیصد بتائی گئی ہے، سرکاری اداروں میں کرپشن کی ہولناک شرح ملکی معیشت کیلئے ٹئم بم ثابت ہو رہی ہے،ایسے میں کیا ایک کمزور حکومت کرپشن مافیا ختم کر پائیگی؟

 

9 ۔ عوام کی سوچ اور توقعات

عوام گہری سیاسی تقسیم کا شکار ہیں مگر ماضی کی نسبت زیادہ سوچ سمجھ اور شعور رکھتے ہیں، سوشل میڈیا نے عوام کی سوچ تبدیل کرنے میں بڑا کردار ادا کیا ہے۔ نوجوان نسل دن رات چور اور ڈاکو کا سیاسی بیانیہ سنتے سنتے بڑی ہوئی ہے، یاد رکھیں اصل فیصلہ ڈیڑھ کروڑ نوجوان ووٹر نے کرنا ہے۔
25 کروڑ عوام صاف پانی، بنیادی صحت، تعلیم، تحفظ، روزگار کو ترس رہے ہیں، شاید یہ انتخابات روایتی نہ ہوں اور شاید نتائج بھی، بد انتظامی، اقربا پروری، کرپشن اسکینڈل جھیلتے پاکستانی ترقی کرتی دنیا بلکہ پڑوس میں نمایاں ترقی کرتے ممالک کو بھی دیکھ رہے ہیں۔ معاشرے میں طبقہ اشرافیہ سے نفرت بڑھتی جا رہی ہے، جمہوری حکومت سے جمہور کی توقعات آنیوالی حکومت کا احتساب تیز کرتی رہیگی۔

 

10 ۔ سیاسی عدم استحکام

پاکستان کی معاشی، تعلیمی، تکنیکی، ترقیاتی اور خوشحالی میدان میں پیچھے رہ جانے کی مرکزی وجہ سیاسی عدم استحکام ہے، گزشتہ 76 سالوں میں ملک عزیز میں کبھی سیاسی استحکام نہ رہا، سو تمام منصوبے، تمام پالیسیاں، ساری حکمت عملی تسلسل سے محروم رہیں۔
خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں پاکستان ایک کمزور ریاست تصور کی جاتی ہے، 25 کروڑ عوام 76 سال بعد بھی بنیادی سہولیات سے کیوں محروم ہیں،یہ 10 واں نکتہ تمام نکات پر بھاری ہے، کیا مقتدر حلقے اس سوال کا جواب ڈھونڈ سکیں گے؟

یہ پڑھیں:انتخابات 2024: الیکشن کمیشن کا سیکیورٹی اہلکاروں کیلئے ضابطہ اخلاق جاری

Catch all the تجزیہ و بلاگز News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔