غزہ و لبنان جنگ؛ اسرائیلی فوج کیلئے موت کا کنواں بن گئی

غزہ و لبنان جنگ؛ اسرائیل کیلئے موت کا کنواں بن گئی(فوٹو: فائل)
اسرائیلی اخبار یروشلم پوسٹ نے اعتراف کیا ہے کہ اسرائیل کو جنوبی لبنان اور غزہ میں شدید جانی نقصان ہو رہا ہے، اسرائیلی فوج کی مشکلات روز بروز بڑھتی جا رہی ہیں، اسرائیلی حکومت قیدیوں کو رہا کروانے اور حماس کو ختم کرنے میں ناکام ہو چکی ہے، جنگ کی وجہ سے اسرائیلی معاشرے میں تقسیم روز بروز بڑھتی جا رہی ہے۔
اپنے اداریے میں لکھا ‘خبریں دیکھنا انتہائی تکلیف دہ ہوتا جا رہا ہے، تقریباً ہر روز، ہمیں جنگ میں مارے جانے والے نوجوان فوجیوں کی دل دہلا دینے والی کہانیاں اور تصاویر دیکھنے کو ملتی ہیں… جوان، معصوم اور تابناک مستقبل سے بھرپور چہرے اب زمین میں دفن ہو چکے ہیں۔ ہلاک ہونے والے فوجیوں کے جنازے گھروں سے نکلتے ہیں تو ان کے پڑوسی سڑکوں پر خاموشی سے کھڑے ہو کر دیکھتے رہتے ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تکلیف برداشت کرنے کی ایک حد ہوتی ہے اور تکلیف اس وقت برداشت کی جا سکتی ہے جب امید کی کوئی کرن باقی ہو، یہ واضح نہیں ہے کہ اسرائیل کے باشندے مزید کتنی اذیت اور موت برداشت کر سکتے ہیں، کیونکہ نہ صرف ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے بلکہ غزہ میں یرغمال بنائے گئے 101 افراد کی رہائی کی جانب بھی کوئی پیش رفت نظر نہیں آ رہی
نیتن یاہو حکومت غزہ میں حماس کی حکمرانی کو ختم کرنے اور یرغمالیوں کی رہائی کو یقینی بنانے کے اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام نظر آتی ہے، اسرائیلی حکومت کے خلاف عوام میں بڑھتا ہوا غم وغصہ اور دشمنی اسرائیل کو اس سے بھی زیادہ تقسیم کر رہا ہے جتنا کہ جنگ سے پہلے کے عدالتی بحران کی وجہ سے اسرائیلی معاشرہ تقسیم تھا۔
جنگ بندی کا مطالبہ کرنے والوں اور مکمل فتح تک جنگ جاری رکھنے والوں کے درمیان عدم اعتماد اسرائیل میں جنگ کے ابتدائی دنوں میں پیدا ہونے والی اتحاد کی فضاء کو ختم کر رہا ہے۔
یروشلم پوسٹ کے اداریے سے صاف ظاہر ہے کہ اسرائیل کو جنوبی لبنان اور غزہ میں شدید جانی و مالی نقصان کا سامنا ہے اور اسرائیلی فوج جنگی اہداف کے حصول میں مکمل ناکام ہو چکی ہے، اسرائیلی معاشرہ جنگ بندی اور جنگ جاری رکھنے والوں میں تقسیم ہو چکا ہے اور یہ خلیج دن بدن مزید بڑھتی جا رہی ہے۔
دوسری طرف اسرائیلی وزیراعظم کرپشن اور خفیہ معلومات لیک کرنے کے الزامات میں تحقیقات کا سامنا کر رہے ہیں، اسرائیلی عدالت نے جنگ کی وجہ سے کرپشن کیس میں التواء کی نیتن یاہو کی درخواست مسترد کر دی ہے، جس کے بعد نیتن یاہو کو اپنا بیان ریکارڈ کروانے کے لیے عدالت کے سامنے پیش ہونا پڑےگا۔ اسرائیلی وزیراعظم کے معاونین کو سیاسی مفادات کے لیے خفیہ معلومات لیک کرنےکے الزامات کا بھی سامنا ہے، نیتن یاہو کے متعدد معاونین حراست میں ہیں، جن سے اس امر سے متعلق تحقیقات کی جا رہی ہیں کہ آیا انھوں نے حماس کے ساتھ ممکنہ جنگ بندی سے متعلق خفیہ معلومات کو نیتن یاہو کے کہنے پر میڈیا کو لیک کیا؟ ان مقدمات میں نیتن یاہو کی نااہلی کی باتیں بھی ہو رہی ہیں، دوسری طرف اسرائیل کے حکمران اتحاد نے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ وزیراعظم کی عارضی نااہلی، بغاوت کے مترادف ہوگا۔
اسرائیلی وزیراعظم اور اسٹبلشمنٹ کے درمیان اختلافات بھی عروج پر ہیں، اسرائیلی فوج اور خفیہ ادارے شدید جانی نقصان کی وجہ سے غزہ اور جنوبی لبنان میں جنگ بندی چاہتے جب کہ نیتن یاہو اور اس کے اتحادی جنگ جاری رکھنا چاہتے ہیں، نیتن یاہو کے ناقدین کا کہنا ہے کہ وہ اپنے سیاسی فائدے کی خاطر جنگ کو طویل کر رہے ہیں، جس کی وجہ سے آئے روز اسرائیلی فوجی ہلاک ہو رہے ہیں۔
اسرائیلی معاشرے کے ساتھ معیشت پر بھی طویل جنگ کے منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں، ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق اکتوبر 2024 سے شروع ہونے والی جنگ میں اسرائیل کو 6 سو ملین ڈالر فی ہفتہ نقصان ہو رہا ہے، جو کہ مجموعی طور پر 36 ارب ڈالر بنتا ہے۔ جنگ کی وجہ سے اسرائیل میں بےروزگاری کی شرح 3 اعشاریہ 4 فیصد سے بڑھ کر 9 اعشاریہ 6 فیصد تک جا پہنچی ہے، جنگ کے اخراجات کو پورا کرنے کے لیے حکومتی اخراجات معمول کے اخراجات کے تقریبا دو گنا ہو چکےہیں۔
جنوبی لبنان میں جارحیت شروع کرتے ہوئے نیتن یاہو حکومت نے دو بڑے جنگی اہداف کا اعلان کیا تھا جن میں اسرائیل کے شمالی علاقوں سے جنگ کی وجہ سے نقل مکانی پر مجبور 60 ہزار شہریوں کی گھروں کو واپسی اور حزب اللہ کو دریائے لیطانی کے شمال تک دھکیلنا شامل تھا۔ اب تک اسرائیلی فوج ان دونوں اہداف کو حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے، ڈیڑھ ماہ میں اسے ایک سو سے زائد اسرائیلی فوجی ہلاک ہوئے ہیں، جب کہ درجنوں مرکاوا ٹینک اور بکتر بند گاڑیاں اور جنگی سازوسامان بھی تباہ ہوا ہے۔ اسرائیلی تھنک ٹینک ‘الما’ کے اعداد و شمار کے مطابق اکتوبر میں حزب اللہ نے ستمبر کی نسبت چار گنا زیادہ حملے کیے ہیں، جن میں راکٹ، میزائل اور ڈرون شامل ہیں ، جب کہ ان حملوں کی گہرائی میں بھی کئی گنا اضافہ ہوا ہے، جس سے تل ابیب اور حیفہ سمیت اسرائیل کا کوئی بھی شہر محفوظ نہیں، اب صرف شمالی اسرائیل ہی نہیں، بلکہ وسطی اسرائیل میں بھی لاکھوں افراد محفوظ پناہ گاہوں میں پناہ لینے پر مجبور ہیں۔
قرائن سے صاف ظاہر ہے کہ طویل جنگ اسرائیل کو معاشی، معاشرتی اور عسکری لحاظ سے لہولہان کر رہی ہے اور جنگ میں گزرتا ہر روز اسرائیلی نقصانات میں اضافہ کر رہا ہے، جو اسے حز۔ب اللہ اور حما۔س کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر سکتا ہے۔
Catch all the تجزیہ و بلاگز News, دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.










