اسپین میں رہائشی بحران کے خلاف ہزاروں افراد کا شدید احتجاج، پولیس سے جھڑپیں

ہاؤسنگ بحران اور بڑھتے ہوئے کرایوں کے خلاف اسپین کے مختلف شہروں میں دسیوں ہزار افراد سڑکوں پر نکل آئے، مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے دوران متعدد افراد زخمی ہو گئے۔
اسپین میں ہنگامی ہاؤسنگ قانون سازی مسترد ہونے کے بعد ملک بھر میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے اور میڈرڈ، ویلنسیا اور بارسلونا سمیت تقریبا 50 شہروں میں بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔
یہ احتجاج اس وقت شروع ہوا، جب پچھلے ماہ ایک 87 سالہ معمر خاتون کو کرایہ ادا نہ کرنے پر گھر سے بے دخل کر دیا گیا تھا، جس پر عوام میں شدید ردعمل سامنے آیا۔
ویلنسیا شہر میں مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں، جہاں مظاہرین نے پولیس پر مختلف چیزیں پھینکیں اور جواب میں پولیس نے ربڑ کی گولیاں چلائیں۔ اس پرتشدد تصادم میں 9 پولیس اہلکار زخمی ہوئے، 5 مظاہرین کو گرفتار کر لیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں : ایران کو اب کسی بھی غیر ملکی دفاعی امداد کی ضرورت نہیں، جنرل علی بلالی
ادھر دارالحکومت میڈرڈ میں بھی بہت بڑا مظاہرہ کیا گیا، جہاں ٹیننٹس یونین کے مطابق 5 لاکھ افراد نے شرکت کی، جبکہ سرکاری ذرائع نے یہ تعداد 70 ہزار بتائی۔
مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ کرایوں میں کمی کی جائے، جبری بے دخلی کا سلسلہ روکا جائے اور رئیل اسٹیٹ فنڈز کی جانب سے جائیدادوں کی خریداری پر پابندی عائد کی جائے۔
وزیراعظم پیدرو سانچیز کی مخلوط حکومت ہاؤسنگ بل پاس کروانے میں ناکام رہی ہے، جس کے بعد قبل از وقت عام انتخابات ہونے کے امکانات بھی بڑھ گئے ہیں۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.








