"غزہ کے نوجوانوں کو ختم کردیں” اسرائیلی عہدیدار کی دھمکی

"غزہ کے نوجوانوں کو ختم کردیں" اسرائیلی عہدیدار کا کی دھمکی
صیہونی پارلیمنٹ کے انتہا پسند ڈپٹی اسپیکر نے نابالغ بچوں کو ماؤں سے الگ کرنے اور نوجوانوں کے قتل عام کا مطالبہ کردیا۔
کول باراما ریڈیو کو دیے گئے ایک انٹرویو کے دوران نسیم وتوری نے فلسطینیوں کو ‘بدمعاش’ اور ‘غیر انسانی’ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ لوگوں کا ایک ایسا گروہ ہے جسے قبول نہیں کیا جا سکتا۔
غزہ میں کون بے گناہ ہے؟ وتوری نے کول باراما ریڈیو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ شہری باہر نکلے اور انہوں نے لوگوں کو قتل کیا۔
صیہونی عہدیدار کا کہنا تھا کہ اسرائیل کو غزہ میں بچوں اور عورتوں کو الگ کرنے اور بڑوں کو شہید کرنے کی ضرورت ہے، ہم بہت زیادہ غور کر رہے ہیں۔
بین الاقوامی برادری سمجھتی ہے کہ غزہ کے باشندوں کا کہیں خیر مقدم نہیں کیا جاتا اور وہ انہیں اسرائیل کی طرف دھکیل رہے ہیں۔
جنین جلد ہی غزہ میں تبدیل ہو جائے گا
نیتن یاہو کی پارٹی سے تعلق رکھنے والے ڈپٹی اسپیکر نے یہ بھی کہا کہ مقبوضہ مغربی کنارے کا شہر جنین جلد ہی غزہ میں تبدیل ہو جائے گا، جنگ بندی معاہدے کے حصے کے طور پر رہا کیے گئے فلسطینیوں کو وہاں رکھا جانا چاہئے تاکہ انہیں بعد میں ختم کیا جا سکے۔
یہ نفرت آمیز بیان اسرائیل کی جانب سے فلسطینی قیدیوں اور زیر حراست افراد کی رہائی میں تاخیر کے بعد سامنے آیا ہے۔
اسرائیل نے گزشتہ ہفتے رہا ہونے والے چھ اسرائیلی قیدیوں کے بدلے 602 فلسطینی قیدیوں کو رہا کرنا تھا۔ حماس نے اس کے جواب میں اعلان کیا تھا کہ جب تک وعدے کے مطابق قیدیوں کو رہا نہیں کیا جاتا وہ مذاکرات معطل کردیں گے۔
ثالث جنگ بندی معاہدے کو برقرار رکھنے کیلئے اسرائیل پر دباؤ ڈالیں، حماس
حماس کے ایک عہدیدار محمود مرداوی نے ثالثوں پر زور دیا کہ وہ جنگ بندی معاہدے کو برقرار رکھنے کے لیے اسرائیل پر دباؤ ڈالیں۔
وتوری جیسے اعلیٰ اسرائیلی رہنماؤں کی جانب سے جاری کی جانے والی پرتشدد بیان بازی کو غزہ کے خلاف جنگ میں اسرائیل کے نسل کشی کے عزائم کے ثبوت کے طور پر استعمال کیا جاسکتا ہے۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












