ہفتہ، 9-مئی،2026
ہفتہ 1447/11/22هـ (09-05-2026م)

کے پی میں دہشت گردی کے پیچھے سیاسی اور مجرمانہ گٹھ جوڑ ہے، ترجمان پاک فوج

10 اکتوبر, 2025 14:43

ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا کہنا ہے کہ کے پی میں دہشت گردی کے پیچھے سیاسی اور مجرمانہ گٹھ جوڑ ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ پاک افواج دہشت گردی کے خاتمے کیلئے پر عزم ہیں، دہشت گردی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑ کر پھینکنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ 2 دہائیوں سے زیادہ عرصے سے پاکستان دہشت گردی سے نبرد آزما ہے، خیبرپختونخوا میں 2024 میں 14 ہزار 535 آپریشنز کیے گئے، دہشت گردوں کیخلاف کارروائیاں خفیہ اطلاعات پر کی جاتی ہیں، رواں سال خیبرپختونخوا میں 516 افراد شہید ہوئے، پاک فوج کے 272 اور پولیس کے 140 جوان شہید ہوئے، رواں سال جو خارجی ہلاک ہوئے وہ 10 سال میں سب سے زیادہ ہیں۔

 لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ رواں سال خیبرپختونخوا میں 40 آپریشن یومیہ کیے گئے، سوچے سمجھے منصوبے کے تحت دہشت گردوں، سہولت کاروں کو جگہ دی گی، دہشت گردوں نے 2 سال میں 30 افغان خودکش بمباروں کو استعمال کیا۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ کن عوامل کی وجہ سے دہشت گردی موجود ہے؟ دہشت گردی میں اضافے کی وجوہات نیشنل ایکشن پلان پر پوری طرح عملدر آمد نہ کرنا ہے، کیا ہر  مسئلے کا حل بات چیت میں ہے؟ ہر مسئلے کا حل بات چیت میں ہوتا تو غزوات نہ ہوتے، بھارت افغانستان کو دہشت گردی کے بیس کے طور پر استعمال کررہا ہے، افغانستان میں دہشت گردوں کی محفوظ پناہیں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کے پی میں مارے گئے خارجیوں سےغیر ملکی اسلحہ نکلا، سوال یہ ہے کیا ہم ایک بیانیے پر کھڑے ہیں؟ امریکی اسلحے کا دہشت گردوں کے ہاتھ لگنا بھی دہشت گردی کی بڑی وجہ ہے، غیر قانونی افغانیوں کو واپس بھیجنے کے بجائے ابہام پیدا کیا جارہا ہے، گمراہ کن بیانیے سے دہشت گردوں کیخلاف کارروائیوں کو کمزور کیا گیا۔

    لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ دہشت گردی کی جنگ میں ہمارے بچے قربانیاں دے رہے ہیں، دہشت گردی کیخلاف جاری آپریشن کیخلاف جھوٹا بیانیہ بنایا جارہا ہے، کے پی میں دہشت گردی کے پیچھے یہ سیاسی اور مجرمانہ گٹھ جوڑ ہے، افواج پاکستان ہی پاکستان کے عوام کی سیکیورٹی کے ضامن ہیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ ریاست پاکستان اور اس کے عوام تنہا نہیں ہیں، دہشت گردی کے زیادہ واقعات خیبرپختونخوا میں ہی کیوں ہوتے ہیں، کے پی کے عوام گورننس، مجرمانہ سیاسی پشت پناہی کا خمیازہ بھگت رہے ہیں، پنجاب اور سندھ  میں گورننس قائم ہے، افغانستان سے سیکیورٹی کی بھیک مانگنے کے بجائے خود اس کی حفاظت کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ خارجی دہشت گردوں پر زمین تنگ کردی جائے گی، پاکستانی فوج بنیان مرصوص کی طرح دہشت گردوں کے سامنے کھڑی رہے گی، اب "اسٹیٹس کو "نہیں چلے گا، پچھلی حکومت نے نیشنل ایکشن پلان سے کچھ نکات حذف کیے، یہاں ہزاروں گاڑیاں نان کسٹم پیڈ چل رہی ہیں، نان کسٹم پیڈ گاڑیاں دہشت گردی میں استعمال ہورہی ہیں۔

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ پاک افغان بارڈر پر نارکوٹکس کی اسمگلنگ ہورہی ہے، ان کیخلاف کارروائی کریں تو ان کی پشت پناہی کرنے والے کھڑے ہوجاتے ہیں، سب جانتے ہیں کرمنل مافیا میں بڑی تعداد افغانیوں کی ہے، جب ان کو واپس بھیجنے کی بات ہوتی ہے تو آپ کہتے ہیں یہ آپ کے بھائی ہیں، ان افغانیوں کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، کوئی یہ بات نہیں کرے گا کرپشن کا پیسہ کہاں سے آیا، اب وقت آگیا ہم ایک دوسرے سے سچ بولیں۔

ترجمان پاک فوج کا کہنا ہے کہ فوج کے جوان آپ کے اپنے بچے ہیں جو جانیں دے رہے ہیں، ہمارے جوان سینوں پر گولیاں آپ کی سیاست چلانے کیلئے نہیں کھارہے، افغانستان میں دھماکوں کی سوشل میڈیا پر باتیں ہورہی ہیں، ہم افغان حکومت سے صرف ایک بات کرتے ہیں، اپنی سرزمین کو دہشت گردی کے لیے استعمال نہ کریں، پاک افغان تجارت اب بھی جاری ہے، لوگ آتے جاتے ہیں، ہم صرف ایک بات کہتے ہیں اپنی سرزمین کو دہشت گردوں کی آماجگاہ نہ بننے دیں۔

   ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ ہمارے وزرا افغانستان کئی بار جاچکے ہیں، ہم کئی بار انہیں بتاچکے دہشت گرد کون ہیں اور کہاں کہاں ملوث ہیں، ہر قسم کا نان اسٹیٹ ایکٹر افغانستان میں پایا جاتا ہے، نان اسٹیٹ ایکٹر یا دہشت گرد کا کوئی دین ایمان نہیں ہوتا، آج وہ ایک تنظیم میں کل وہ کسی اور تنظیم میں ہوگا، دہشت گردوں کا کے پی کی روایات سے کوئی تعلق نہیں، اب یہ فیصلہ انہیں کرنا ہے جو افغانستان کی حکومت چلارہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جب آپ دہشت گرد کو پالتے ہیں تو وہ سانپ کی طرح ہوتے ہیں، دہشت گرد آپ کیلئے بھی خطرہ بن سکتے ہیں، انہیں فیصلہ کرنا ہے نان اسٹیٹ ایکٹرز سے کیسے نمٹنا ہے، 4 دہائیوں سے زیادہ لاکھوں افغان مہاجرین کی مہمان نوازی کی، دہشت گردوں اور سہولت کاروں کیلئے زمین تنگ کردی جائے گی، دہشت گرد بچوں کو اسلام کا غلط بیانیہ سکھا کر گمراہ کرتے ہیں، اس کیخلاف کون کام کرے گا، کیا یہ ذمہ داری فوج کی ہے؟ دہشت گرد صرف پیسوں کیلئے معصوم جانوں کو نشانہ بناتے ہیں، ہمیں خارجی سوچ کے خلاف کام کرنا ہے۔

   لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ ریاست، افواج اور ادارے کسی قسم کے گٹھ جوڑ کو برداشت نہیں کریں گے، کون کہہ رہا ہے پاکستان کی سیکیورٹی کی ضمانت کابل کے پاس ہے؟ خیبرپختونخوا کی عدالتوں سے دہشت گردوں کو سزا کیوں نہیں ملتی؟ افغانستان ہمارا برادر اسلامی ملک ہے۔

 ڈی جی آئی ایس پی آر نے دہشت گردوں کے سہولت کاروں کو 3 آپشنز دیتے ہوئے کہا کہ سہولت کار خود خارجیوں کو ریاست کے حوالے کردیں، سہولت کار خارجیوں کیخلاف ریاست کے ساتھ مل کر لڑیں، اگر ایسا نہیں کرنا تو پھر سہولت کار کے ایکشن کیلئے تیار ہوجائیں، فوج کا ریاست کے ساتھ ذاتی یا سیاسی نہیں بلکہ سرکاری تعلق ہے، وفاقی حکومت اور تمام ادارے کام کررہے ہیں، پاکستان میں کوئی بھی کسی پر الزام لگا دیتا ہے، برطانیہ میں جھوٹے الزام پر کل سزا دی گئی، کیا ایسی کوئی مثال آپ پاکستان میں دے سکتے ہیں۔

ترجمان پاک فوج کا کہنا ہے کہ ہمارے لیے تمام سیاسی پارٹیز اور سیاستدان قابل احترام ہیں، فوج کو بیان بازی اور گمراہ کن پروپیگنڈے سے دور رکھیں، ہم عوام کی مدد اور ریاستی احکامات کے مطابق اپنا کام کریں گے، فیصلے ریاست کرتی ہے، ادارے صرف ان پٹ دیتے ہیں، 9 مئی میں ملوث لوگ اپنے انجام کو پہنچ رہے ہیں، 9 مئی افواج پاکستان نہیں قوم کا مقدمہ ہے، ریاست مخالف قیادت نہیں لائی جاسکتی، سیاسی شعبدے بازی سے متاثر  ہوکر اپنا کام نہیں چھوڑیں گے۔

Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔