سہیل آفریدی کی چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ سے بات کرنے کی کوشش

اسلام آباد ہائی کورٹ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا کہ چیف جسٹس سے ملاقات ممکن نہ ہونے کے باعث انہوں نے کھلی عدالت میں بات کرنے کی کوشش کی۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ رمضان میں روزے کی حالت میں روسٹرم پر گئے اور چیف جسٹس کو سلام کیا مگر انہیں جواب تک نہ دیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ ان کی جماعت احتجاجی یا انتشار کی سیاست پر یقین نہیں رکھتی بلکہ تمام قانونی راستے اختیار کرنے کے بعد پرامن احتجاج کو اپنا حق سمجھتی ہے۔
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا نے کہا کہ شوکت خانم اسپتال کے ڈاکٹروں سے طبی معائنہ کرانے کی درخواست بھی جمع کرائی گئی مگر اس پر سماعت نہ ہو سکی۔
یہ بھی پڑھیں : خیبر پختونخوا میں کوئی فوجی آپریشن نہیں ہوگا، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی
اسی موقع پر سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ عدالت نے ہفتہ وار دو ملاقاتوں کا حکم دیا تھا، جن میں ایک دن وکلا اور ایک دن اہل خانہ کے لیے مقرر تھا، مگر جیل حکام نے ملاقات نہ کرائی۔ توہین عدالت کی درخواست دائر کی گئی مگر اس پر بھی سماعت نہ ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ عدالت اپنے ہی احکامات پر عمل درآمد نہ ہونے کے باوجود کوئی کارروائی نہیں کر رہی، اسی لیے وہ سپریم کورٹ سے رجوع کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی کے خلاف سماجی رابطے کی ویب سائٹ کے حوالے سے ایک مقدمہ مقرر ہے مگر ملاقات نہ ہونے کے باوجود عدالت کارروائی آگے بڑھا رہی ہے۔
Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.











