ہفتہ، 28-فروری،2026
ہفتہ 1447/09/11هـ (28-02-2026م)

بیوہ کا حق مہر مدت سے مشروط نہیں : اسلام آباد ہائی کورٹ

26 فروری, 2026 15:36

اسلام آباد ہائی کورٹ نے قرار دیا ہے کہ بیوہ کا حق مہر محض مدت گزر جانے سے ختم نہیں ہو سکتا اور اسے تین سال کی قانونی حد میں مقید کرنا اسلامی احکامات اور آئین پاکستان سے متصادم ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے اکیس صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ بیوہ کا حق مہر ایک بنیادی اور شرعی حق ہے جو وقت گزرنے سے ختم نہیں ہو سکتا۔

عدالت نے فیملی کورٹ اور اپیلیٹ کورٹ کے وہ فیصلے کالعدم قرار دے دیئے جن میں تین سال سے زائد مدت گزر جانے کی بنیاد پر دعویٰ مسترد کیا گیا تھا۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں قرآن پاک کی سورۃ النساء کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حق مہر حکم الہٰی ہے اور اسلامی قانون کے تحت یہ شوہر پر ایک مقدس قرض کی حیثیت رکھتا ہے۔ شوہر کی وفات کے بعد یہ قرض ترکہ پر واجب الادا ہو جاتا ہے اور وراثت کی تقسیم سے پہلے اس کی ادائیگی لازم ہے۔

یہ بھی پڑھیں : سہیل آفریدی کی چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ سے بات کرنے کی کوشش

درخواست گزار کی شادی 1991 میں ہوئی تھی اور نکاح نامے میں اسلام آباد کے ایک مکان کو بطور حق مہر درج کیا گیا تھا۔ بعد ازاں شوہر نے وہ مکان فروخت کر دیا اور 2009 میں دوسری جائیداد بیوی کے نام منتقل کرنے کی کوشش کی۔

شوہر کے انتقال کے بعد بیوہ نے حق مہر کی ملکیت کے لیے عدالت سے رجوع کیا، تاہم فیملی کورٹ نے تین سال کی مدت گزر جانے کا جواز بنا کر درخواست خارج کر دی، جسے اپیلیٹ کورٹ نے بھی برقرار رکھا۔

ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ ویسٹ پاکستان فیملی کورٹس ایکٹ 1964 ایک خصوصی قانون ہے اور اس میں مہر کے دعوے کے لیے کوئی مخصوص مدت مقرر نہیں کی گئی، لہٰذا عمومی میعاد کے قانون کا اطلاق خودکار طور پر نہیں کیا جا سکتا۔

عدالت نے کہا کہ حق مہر کو تین سال کی حد میں مقید کرنا آئین پاکستان کے آرٹیکل دو سو ستائیس اور اسلامی تعلیمات سے متصادم ہے۔

عدالت نے ہدایت کی کہ فیملی کورٹ چار ماہ کے اندر کیس کو دوبارہ سن کر میرٹ پر فیصلہ کرے اور بیواؤں سے متعلق معاملات میں تاخیر کی معافی کے لیے وسیع النظر اور انصاف پر مبنی نقطہ نظر اپنایا جائے۔

Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔