اتوار، 1-مارچ،2026
اتوار 1447/09/12هـ (01-03-2026م)

سید علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد ایران کا نیا سپریم لیڈر کون ہوگا؟

01 مارچ, 2026 09:14

ایران کے سپریم لیڈر کی شہادت کے بعد ملک کا آئینی نظام کس طرح آگے بڑھتا ہے؟ ایرانی آئین کے مطابق اقتدار کی منتقلی کے لیے واضح اور منظم طریقہ کار موجود ہے تاکہ کسی قسم کا خلا پیدا نہ ہو۔

اگر ایران کے سپریم لیڈر کا انتقال ہو جائے تو ملک کا آئین فوری طور پر ایک منظم عبوری نظام کو متحرک کر دیتا ہے۔ ایرانی آئین کے تحت سب سے پہلے ایک عارضی قیادتی ڈھانچہ سپریم لیڈر کے اختیارات سنبھالتا ہے تاکہ ریاستی امور میں کسی قسم کا تعطل پیدا نہ ہو۔ اس دوران نئے سپریم لیڈر کے انتخاب کا عمل باضابطہ طور پر شروع کیا جاتا ہے۔

ایرانی نظام میں ماہرین کی مجلس ایک منتخب مذہبی کونسل ہے، جس کے اراکین عوام کے ووٹوں سے منتخب ہوتے ہیں۔ سپریم لیڈر کے منصب کے خالی ہونے کی صورت میں یہی مجلس اجلاس طلب کرتی ہے اور نئے رہنما کا تقرر کرتی ہے۔ اس طرح اقتدار کی منتقلی کو آئینی بنیاد فراہم کی جاتی ہے اور غیر یقینی کیفیت کو کم سے کم رکھنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

آئین کے مطابق اگر سپریم لیڈر کے ساتھ ساتھ صدر کا منصب بھی خالی ہو جائے تو صورت حال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے، تاہم اس کے لیے بھی واضح شقیں موجود ہیں۔

ایسی صورت میں آئین کی شق ایک سو اکتیس نافذ العمل ہوتی ہے، جس کے تحت پہلا نائب صدر قائم مقام صدر بن جاتا ہے۔ وہ پارلیمنٹ کے اسپیکر اور عدلیہ کے سربراہ کے ساتھ مل کر پچاس دن کے اندر نئے صدارتی انتخابات کے انعقاد کا پابند ہوتا ہے۔

اس تمام عرصے میں ماہرین کی مجلس اپنے طور پر نئے سپریم لیڈر کے انتخاب کا عمل جاری رکھتی ہے۔ یعنی صدارتی انتخاب اور سپریم لیڈر کے تقرر کے عمل ایک دوسرے سے الگ لیکن بیک وقت جاری رہ سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : ایرانی سپریم لیڈر کی بیٹی، داماد اور نواسہ بھی شہید

اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ایرانی آئین نے دوہری خالی آسامی کی صورت میں بھی تسلسل برقرار رکھنے کا بندوبست کر رکھا ہے۔

نئے سپریم لیڈر کے انتخاب کے لیے آئین میں مخصوص شرائط رکھی گئی ہیں۔ امیدوار کا ایک سینئر شیعہ فقیہ ہونا ضروری ہے، جسے مرجع یا کم از کم ایسا مجتہد سمجھا جائے جو شرعی اور فقہی صلاحیتوں کا حامل ہو۔ اس کے ساتھ ساتھ مضبوط سیاسی بصیرت، مذہبی ساکھ اور قیادت و فیصلہ سازی کی اہلیت بھی لازمی تقاضوں میں شامل ہے۔

ایرانی آئینی ڈھانچہ اس طرح ترتیب دیا گیا ہے کہ کسی بھی ہنگامی صورت حال میں اقتدار کا خلا پیدا نہ ہو۔ تاہم مبصرین کے مطابق عملی طور پر انتقال اقتدار کا عمل محض آئینی نکات تک محدود نہیں رہتا بلکہ سیاسی توازن، بااثر حلقوں کی رائے، مذہبی قیادت کا اتفاق اور سکیورٹی اداروں کا کردار بھی اس عمل کی رفتار اور نوعیت پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔

تجزیہ کار بابک وحدت، جو ایران، افغانستان، پاکستان اور خلیج فارس کے امور پر تحقیق کرتے ہیں، کے مطابق اگرچہ آئین ایک واضح فریم ورک فراہم کرتا ہے، لیکن کسی بھی بڑی تبدیلی کے دوران سیاسی ماحول اور اشرافیہ کے درمیان ہم آہنگی فیصلہ کن عنصر ثابت ہوتی ہے۔

ان کے بقول نظام کو تسلسل دینے کے لیے قانونی بنیادیں مضبوط ہیں، مگر منتقلی کا عمل کتنا ہموار یا کشیدہ ہوگا، اس کا انحصار زمینی حقائق پر ہوگا۔

یوں اگر سپریم لیڈر کا منصب خالی ہوتا ہے تو ایران کا آئینی نظام ایک منظم اور مرحلہ وار طریقہ کار کے تحت نئے رہنما کے انتخاب کی طرف بڑھتا ہے، تاکہ ریاستی ڈھانچہ برقرار رہے اور داخلی استحکام متاثر نہ ہو۔

Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔