جمعرات، 5-مارچ،2026
جمعرات 1447/09/16هـ (05-03-2026م)

نیب ترمیمی بل کثرتِ رائے سے منظور، سینیٹ میں اپوزیشن کا شدید احتجاج اور شور شرابہ

05 مارچ, 2026 15:30

ایوانِ بالا میں اپوزیشن کے شدید ہنگامے اور شور شرابے کے باوجود نیب ترمیمی بل منظور کر لیا گیا ہے، جس کے تحت ادارے کے طریقہ کار اور چیئرمین کی مدتِ ملازمت میں اہم تبدیلیاں کی گئی ہیں۔

سینیٹ کے حالیہ اجلاس میں سینیٹر عبدالقادر نے قومی احتساب بیورو یعنی نیب ترمیمی بل پیش کیا، جس کے دوران ایوان مچھلی منڈی بن گیا۔ اپوزیشن اراکین نے بل کی شدید مخالفت کرتے ہوئے ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑ دیں اور حکومت کے خلاف نعرے بازی کی۔

ہنگامہ آرائی کے باوجود نیب ترمیمی بل سینیٹ سے منظور کر لیا گیا۔ اس بل کے تحت قومی احتساب آرڈیننس میں اہم تبدیلیاں کی گئی ہیں، جن میں نیب کی مالی حد پچاس کروڑ روپے سے کم کر کے تیس کروڑ روپے کر دی گئی ہے۔

اس کا مطلب ہے کہ اب تیس کروڑ روپے سے زائد کی کرپشن کے مقدمات نیب کے دائرہ اختیار میں آئیں گے۔ بل کے متن کے مطابق چیئرمین نیب کی مدتِ ملازمت، جو پہلے ناقابلِ توسیع تھی، اب قابلِ توسیع ہو گی اور نئے چیئرمین کی تقرری تک موجودہ چیئرمین اپنے عہدے پر کام جاری رکھ سکیں گے۔

یہ بھی پڑھیں : سینیٹ میں افغانستان کی دراندازی کے خلاف متفقہ قرارداد منظور

مزید برآں، بل میں یہ تجویز بھی دی گئی ہے کہ ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف تیس دن کے اندر وفاقی آئینی عدالت میں دوسری اپیل کی جا سکے گی، تاہم یہ اپیل صرف قانون کے اہم سوالات اور انصاف کے تقاضے پورے نہ ہونے پر ہو گی۔

سینیٹر علی ظفر نے ایوان میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے اس بل کو جمہوری روایات کے خلاف قرار دیا اور کہا کہ یہ قانون سازی صرف بانی پی ٹی آئی کو نشانہ بنانے کے لیے کی جا رہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ بل نجی ممبر ڈے کے ایجنڈے کا حصہ نہیں ہونا چاہیے تھا اور یہ جلد بازی میں منظور کرایا گیا۔ قانون مستقبل میں خود حکومت کے لیے مشکلات پیدا کرے گا۔

سینیٹر عبدالقادر نے ان اعتراضات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ترامیم کا مقصد قانونی خلاء کو ختم کرنا اور ادارے کے کام میں تسلسل لانا ہے۔

Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔