ایرانی ڈرونز امریکی دفاع کے لیے دردِ سر بن گئے

امریکی وزیر دفاع نے قانون سازوں کو بتایا ہے کہ ایران کے تیار کردہ شاہد ڈرونز امریکی دفاعی نظام کے لیے سنگین چیلنج بن چکے ہیں۔
امریکی دارالحکومت میں قانون سازوں کو دی جانے والی ایک بند کمرہ بریفنگ میں وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ اور سینیٹر ٹم کین نے بتایا ہے کہ ایران کے تیار کردہ شاہد ڈرونز امریکی دفاعی نظام کے لیے مسلسل اور پیچیدہ خطرہ بن گئے ہیں۔
بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ یہ ڈرون انتہائی نچلی سطح پر پرواز کرتے ہیں اور ان کی رفتار بھی نسبتاً کم ہوتی ہے، جس کی وجہ سے جدید دفاعی نظام کے لیے انہیں بروقت شناخت کرنا اور تباہ کرنا آسان نہیں رہتا۔
امریکی دفاعی ماہرین کے مطابق ان ڈرونز کی پرواز کی خصوصیات انہیں روایتی میزائل دفاعی نظام کے مقابلے میں زیادہ مؤثر بنا دیتی ہیں۔
امریکی حکام کے مطابق اصل تشویش ان ہتھیاروں کی تیاری کے حساب کتاب سے پیدا ہو رہی ہے۔ ایران ہر ماہ تقریباً ایک سو ڈرون تیار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے جبکہ ہر ڈرون کی لاگت تقریباً پینتیس ہزار ڈالر بتائی جاتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں : ایران جنگ کے باعث پاکستان میں ادویات کی قلت کا خدشہ
اس کے مقابلے میں امریکا ماہانہ صرف چھ یا سات انٹرسیپٹر میزائل تیار کر پاتا ہے اور ہر میزائل کی قیمت ایرانی ڈرون کے مقابلے میں تقریباً دس گنا زیادہ ہے۔
کیپیٹل ہل کے ذرائع کے مطابق حالیہ کشیدگی کے دوران امریکا نے صرف ابتدائی تین دنوں میں ٹوماہاک میزائلوں کا تقریباً پانچ سال کے برابر ذخیرہ استعمال کر لیا۔ اس صورتحال نے امریکی عسکری حکمت عملی میں بڑے پیمانے پر تبدیلی کی ضرورت کو اجاگر کر دیا ہے۔
امریکی محکمہ دفاع کے حکام کا کہنا ہے کہ اس فرق کو کم کرنے کے لیے نہ صرف مزید مالی وسائل بلکہ نئی فیکٹریاں اور تربیت یافتہ انجینئرز بھی درکار ہوں گے۔ اسی مقصد کے لیے پینٹاگون نے کانگریس سے پچاس ارب ڈالر کے ہنگامی بجٹ کی منظوری کا مطالبہ کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی اس معاملے پر دفاعی صنعت کی بڑی کمپنیوں پر دباؤ ڈال رہے ہیں کہ ٹوماہاک میزائلوں کی پیداوار میں نمایاں اضافہ کیا جائے اور اسے سالانہ ایک ہزار سے زیادہ تک پہنچایا جائے تاکہ ممکنہ جنگی صورتحال میں امریکی دفاعی صلاحیت کو برقرار رکھا جا سکے۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.










