جمعہ، 17-اپریل،2026
جمعہ 1447/10/29هـ (17-04-2026م)

رہائی فورس کی تشکیل پر وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سے جواب طلب

01 اپریل, 2026 13:24

وفاقی آئینی عدالت نے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کی جانب سے رہائی فورس کی تشکیل کے خلاف دائر درخواست پر سماعت کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ اور وفاقی حکومت سے دس دن کے اندر تفصیلی جواب طلب کر لیا ہے۔

وفاقی آئینی عدالت میں چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے رہائی فورس کی تشکیل کے خلاف دائر درخواست کی سماعت کی۔ بینچ کے دیگر اراکین میں جسٹس علی باقر نجفی بھی شامل تھے۔

سماعت کے دوران درخواست گزار ظہیر احمد کے وکیل علی نواز نے رہائی فورس کی تشکیل سے متعلق اہم دستاویزات پیش کیں اور عدالت کو بتایا کہ وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کا یہ بیان ریکارڈ پر موجود ہے کہ ان کا مقابلہ ڈاکوؤں سے ہے اور اس مقصد کے لیے یہ فورس بنائی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں : رہائی فورس بنانے پر وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کیخلاف درخواست پر ثبوت طلب

وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی متوازی فورس کی تشکیل امن و عامہ کے لیے ایک بڑا خطرہ بن سکتی ہے اور اس حوالے سے کراچی ہائیکورٹ کا ایک سابقہ فیصلہ بھی موجود ہے۔

سماعت کے دوران جسٹس علی باقر نجفی نے استفسار کیا کہ کیا صوبائی کابینہ نے اس فورس کی تشکیل کی باقاعدہ منظوری دی تھی؟ جس پر درخواست گزار کے وکیل نے جواب دیا کہ کابینہ سے ایسی کوئی اجازت نہیں لی گئی۔

عدالت نے معاملے کی سنگینی کو مدنظر رکھتے ہوئے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی سے دس دن میں تحریری جواب طلب کر لیا ہے۔

اس کے ساتھ ہی وفاقی حکومت کو بھی نوٹس جاری کرتے ہوئے ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اس عمل کی قانونی حیثیت کا جائزہ لے اور اس بات کو یقینی بنائے کہ فورس کی تشکیل میں آئین پاکستان کی کسی شق کی خلاف ورزی نہ کی گئی ہو۔

Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔