ایران اور امریکہ میں 45 روزہ جنگ بندی کیلئے پاکستان اور ترکی کی کوششیں

پاکستان، ترکی اور مصر کی ثالثی میں ایران اور امریکہ کے درمیان 45 روزہ عارضی جنگ بندی کے لیے آخری کوششیں کی جا رہی ہیں تاکہ مستقل امن کی راہ ہموار کی جا سکے۔
عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق امریکہ، ایران اور علاقائی ثالثوں کے درمیان ایک ممکنہ 45 روزہ جنگ بندی کے معاہدے پر خفیہ مذاکرات جاری ہیں۔
ان مذاکرات کا مقصد ایک ایسا راستہ نکالنا ہے، جو مستقل بنیادوں پر جنگ کے خاتمے کا سبب بن سکے۔ رپورٹ کے مطابق یہ حساس بات چیت پاکستان، مصر اور ترکی کی ثالثی میں ہو رہی ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کے درمیان براہِ راست پیغامات کا تبادلہ بھی ہوا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : ایران کیخلاف ٹرمپ کی دھمکیاں، واشنگٹن میں شدید سیاسی ردعمل، بیان پاگل پن قرار
ذرائع کا کہنا ہے کہ اگلے 48 گھنٹوں میں کسی حتمی نتیجے پر پہنچنے کے امکانات فی الحال کم ہیں، لیکن کوششیں پوری شدت سے جاری ہیں۔
ایرانی حکام نے ثالثوں کو واضح کر دیا ہے کہ وہ غزہ یا لبنان جیسی صورتحال کا شکار نہیں ہونا چاہتے، جہاں کاغذوں پر تو جنگ بندی ہوتی ہے، لیکن امریکہ اور اسرائیل جب چاہتے ہیں، دوبارہ حملے شروع کر دیتے ہیں۔ ایران ایک ایسی ضمانت چاہتا ہے، جو اسے دوبارہ جارحیت سے محفوظ رکھ سکے۔
دوسری طرف امریکی انتظامیہ پر بھی اندرونی اور بیرونی دباؤ بڑھ رہا ہے کہ وہ اس جنگ کو مزید طول نہ دے۔ پاکستان کا کردار ان مذاکرات میں انتہائی کلیدی بتایا جا رہا ہے کیونکہ اس کے دونوں فریقین کے ساتھ رابطے موجود ہیں۔
اگر یہ 45 روزہ جنگ بندی کامیاب ہو جاتی ہے تو یہ خطے میں پائیدار امن کے لیے پہلا قدم ثابت ہو سکتی ہے۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.









