جمعہ، 10-اپریل،2026
جمعہ 1447/10/22هـ (10-04-2026م)

پاکستان نے ناممکن کو ممکن بنا دیا، عالمی طاقتوں سے رات بھر جاری رہنے والے رابطوں کی تفصیلات

08 اپریل, 2026 13:34

امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والی حالیہ جنگ بندی میں پاکستان نے ایک کلیدی اور تاریخی ثالث کا کردار ادا کرتے ہوئے ناممکن کو ممکن کر دکھایا ہے۔ سول اور عسکری قیادت گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مسلسل سفارتی کوششوں میں مصروف رہی، جس کے نتیجے میں خطہ ایک بڑی تباہی سے بچ گیا۔

ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی کو ختم کرانے اور جنگ بندی کے عمل کو یقینی بنانے میں پاکستان نے جو کردار ادا کیا ہے، اسے عالمی سطح پر معجزہ قرار دیا جا رہا ہے۔

حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ گزشتہ دن اور رات پاکستان کی سول و عسکری قیادت کے لیے انتہائی اعصاب شکن اور مشکل ترین تھے۔

یہ بھی پڑھیں : بڑی سفارتی فتح، پاکستان کی درخواست پر امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کا اعلان

پاکستان نے اس بحران کے حل کے لیے امریکہ، ایران، سعودی عرب اور خلیجی ممالک کے ساتھ مسلسل درجنوں بار رابطے کیے۔

اس مشن کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ چین اور روس جیسی عالمی طاقتوں کے ساتھ ایک ہی دن میں تین بار اعلیٰ سطحی مشاورت کی گئی۔ یہ تمام رابطے سول اور عسکری دونوں سطحوں پر بیک وقت جاری رہے۔

سفارتی کوششوں کا یہ پہلا مرحلہ منگل کی صبح سے شروع ہوا، جو دن دس بجے تک جاری رہا۔ اس کے بعد دوسرا انتہائی اہم مرحلہ شام چھ بجے شروع ہو کر رات ساڑھے نو بجے تک جاری رہا، جس میں فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے ٹھوس تجاویز پیش کی گئیں۔

تاہم سب سے فیصلہ کن موڑ رات گیارہ بج کر پینتالیس منٹ پر آیا، جب آخری مرحلے کے مذاکرات شروع ہوئے اور صبح چار بجے تک جاری رہے۔

ان اعصاب شکن لمحات میں وزیر اعظم، وزیر خارجہ اور فیلڈ مارشل براہ راست رابطوں میں مشغول رہے۔ اس دوران وزارت خارجہ اور قومی سلامتی کے اداروں نے پسِ پردہ رہ کر جو اہم کردار ادا کیا، اسی کے نتیجے میں صبح ہونے سے پہلے دنیا کو جنگ بندی کی نوید مل گئی۔

پاکستان کی اس مدبرانہ حکمت عملی نے نہ صرف خطے کو آگ کے الاؤ سے بچایا بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کے سفارتی قد و قامت میں بھی اضافہ کر دیا۔

Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔